اوورسیز پاکستانی اور نیا پاکستان


پاکستان میں  ہرنئ آنے والی حکومت اوورسیز پاکستا نیوں کو ملک کا عظیم سرمایہ قرار دیتے ہوۓ انہیں ہر طرح کی سہولت مہیا کرنے کے وعدے کرتی ہے لیکن  بات صرف بلند بانگ دعووں تک ھی محدود رھتی ھے عملی طور پر کچھ بھی نھيں ھو پاتا۔ پی ٹی آئ کی حکومت نے بھی اوورسيز پاکستانيوں کو سھوليات دينے اور ان کے مفادات کے تحفظ کے وعدے تو بہت کيۓ ھيں ليکن ابھی تک عملی طور پر کچھ بھی نہيں کيا۔ بلکہ ايک سے ذيادہ موبائل فون لاانے پر بھی ا چھا خاصہ ٹيکس لگا ديا ہے۔ اب سنا ہے کہ ٹيکس کم کرنے يا دو موبائل فون بلا ٹيکس اجازت پر غور ہو رہا ہے۔

بيرون ملک مقيم پاکستانی زر مبادلہ کے حصول کا سب سے بڑا ذريعہ ہيں۔ انہی کی ترسيلات سے پاکستان کی معيشت کا پہيہ چلتا ہے اس لۓ حکومت کوترجيحی بنيادوں پر ان کے مسائل حل کرنے اور انہيں جائز سہولیات فراہم کرنے ککیی طرف توجہ دينی جاہيۓ۔

اوورسيز پاکستانيزکے پاس اپنی بچتوں کو پیداواری شعبوں میں لگانے کی سہولت موجود نہیں ہے اور افراط زر کی شرح بہت زیادہ ہے جسس کے باعث بینکوں میں جمع شدہ رقوم کی ويلیوپانچ سال بعد آدھي بھی نہيں رہتی اس لۓ ان کی بچتوں کا بہت بڑا حصہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر ميں جاتا ہے جس کے باعث رئیل اسٹیٹ ڈويلپر تو دھڑا دھڑ مال پنا رہے ہيں ليکن ملک کو اس کا کوئ فائدہ نہیں ہو رہا اور پھر قبضہ گروپ ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھتے ہوۓ جائدادوں پر قبضہ کرکے بيٹھ جاتے ہيں۔

نئ حکومت کو ايسا نظام وضع کرنا چاہیۓ جس میں ان بچتوں کو پیداواری شعبوں میں لگایا جا سکے تاکہ ملکی ترقی کا پہیہ بھی آگے بڑھے اورسرمايہ کار بھی مالی فائدہ حاصل کر سکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لۓ اوورسیز پاکستانیزفاؤنڈیشن کی تنظیم نوکرنے کی ضرورت ہے۔وہاں نجی شعبے اور اوورسیز پاکستانیوں کے اشتراک سے ایکسپورٹ اورینٹڈ صنعتوں کے قیام کی طرف پیشرفت کی جاۓ۔

آپ اس سلسلے میں کیا تجاویز دینا چاہیں گے؟


Leave a Reply