تبديلی آگئ ہے

سينيٹر طارق چوہدری کا کالم

تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔ دھرنے کی ہر شام عمران خان اس جملے کی تکرار کرتے، وہ سامعین کی چمکتی آنکھوں، دمکتے چہروں، روشن پیشانیوں کو دیکھ کر جان گئے کہ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آگئی ہے۔ وہ جو بدل دیئے جانے والے تھے ان کو سمجھ نہ آئی یا انہیں سمجھ تھی ہی نہیں، صدا لگانے والا آنے والے دنوں کی سچی خبریں دیتا رہا، وہ کھلی بیدار آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، غروب آفتاب کے بعد قمقموں کی روشنی میں بیٹھے ہزاروں سامعین اور دنیا بھر میں ٹیلی ویژن کی اسکرین سے نظریں نہ ہٹانے والے کروڑوں ناظرین۔ اسے پل پل کی خبر دیتے تھے کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف لندن جارہے ہیں، ان کے چھوٹے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف انہیں ہوائی اڈے پر رخصت کرنے آئے ہیں، نظریں چرائے ہوئے دونوں ہاتھ ملاتے ہیں، اب میاں نوازشریف جہاز کی سنگل سیٹ پر تنہا نظرآتے ہیں، دائیں ہاتھ گلاس رکھنےوالی جگہ پر ان کا سیل فون دھرا ہے، اردگرد سیٹوں پر کوئی حواری ہے نہ جانشین،تیسری تصویر میں لندن کے اسپتال میں صاحب فراش بیگم کلثوم نواز کے کندھے پر ہاتھ رکھے اترے ہوئے چہرے کے ساتھ اداس کھڑے ہیں، دوسری طرف عمران خان بنی گالہ کی بجائے نتھیا گلی میں بکرے کی قربانی کررہے ہیں، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کوئٹہ میں پریس سے بات کرتے ہیں ان کے چہرے پر دمک اور آنکھوں سے روشنی پھوٹ رہی ہے، تینوں کی پیشانی پر نمایاں حروف میں لکھا ہے کہ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے‘‘ عیدالالضحیٰکے مبارک موقع پر صدر مملکت ممنون حسین کے ساتھ وزیراعظم کا تہنیتی پیغام چھپا ہے، اس پیغام میں میاں نوازشریف کی بجائے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی لکھا ہے مگر میاں صاحب کا پیغام اخبارات میں نظر نہیں آیا، اس پر بھی آپ یقین کیوں نہیں کرتے کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے‘‘۔ جنہیں نظر نہیں آتی وہ سمجھ لیں کہ ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، دل اندھے ہوتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے‘‘ نوازشریف وزیراعظم تھے اب نہیں ہیں مگر ایوان اقتدار میں انہی کی چلتی تھی مگر زیادہ چلی نہیں چلتے چلتے رک گئی ہے۔ اپنے بعد پہلی ترجیح مریم نواز، دوسری کلثوم بی بی، تیسری شہباز شریف پھر چوتھی، پانچویں ، چھٹی۔ یعنی اول گھرانہ، پھر خاندان، برادری، لاہور، آخر میں جی ٹی روڈ، سب رہ گئی خیالوں میں آنکھ کھلی تو مری کے خاقان عباسی کے فرزند وزیراعظم تھے۔ صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کا پہلا انتخاب محمد خان جونیجو نہیں تھے وہ علی احمد تالپور کو وزیراعظم مقرر کرنا چاہتے تھے وہ اسمبلی کا الیکشن نہ جیت سکے توان کی دوسری ترجیح الٰہی بخش سومرو ان پر پیر پگارا راضی نہ ہوئے تو مجبوراً پیر صاحب کی سفارش پر جونیجو صاحب کو وزیراعظم بنانا پڑا، کچھ ایسا اتفاق حالیہ وزیراعظم کے ساتھ بھی ہوا۔ تجربہ کاری اور اسمبلی کی سیٹ کا کوئی مسئلہ نہیں تھا پھر بھی گھرانے نے خاندان کی راہ روکی، مسلم لیگ کی گروہ بندی نے برادری کو جا لیا۔ عباسی صاحب کا وزیراعظم ہونا گویا ’’1992ء کا ورلڈ کپ ہوگیا‘‘ کرکٹ کا یہ اعزاز پاکستان کے ہاتھ کب آنا تھا لیکن عمران خان کا اعتماد اور قیادت بروئے کار آئی تو ملک میں جشن کا سماں بندھا، اب بھی عمران خان ہے جس کی ضد شاہد خاقان عباسی کے سر پر ہما بن گئی۔
مجھ تک تو ان کی بزم میں کب آنا تھا دور جام
ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں
یوں وزارت عظمیٰ چپ چاپ بن بلائے، بن چاہے عباسی صاحب کی جھولی میں آن گری۔ 45(پینتالیس) دن کی مدت حکومت اسمبلی کی باقی مدت پر محیط ہوگئی، فوج نے ہاتھ رکھا نہ عدالت نے ہدایت (Direction) دی۔ آخری ترجیح اول آئی، اسی لئے تو عرض ہے کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے‘‘ دنوں کو بدلنے والے کے فیصلے اٹل ہیں۔ ضیاء الحق گزر گئے تو آئین کی کتاب کو کھولا گیا کہ اب کیا کیا جائے؟ آئین میں لکھا تھا ریاست کے سربراہ کی جائے اگر خالی ہو تو چیئرمین سینیٹ کوذمہ داری سونپی جائے، غلام اسحٰق چیئرمین تھے قرعہ ان کے نام نکلا، جنرل اسلم بیگ کے کہنے پر ’’جی ایچ کیو‘‘ بلائے گئے، جب وہاں سے باہر آئے تو صدر مملکت تھے۔ اگلی صبح ایوان صدر میں ان سے ملاقات ہوئی تو وہ اسلم بیگ کے شکر گزار تھے، باتوں ہی باتوں میں ممنونیت اور شکر گزاری حد سے بڑھی تو ادب سے عرض کیا زیادہ احسان مند ہونے کی آپ کو ضرورت نہیں اپنے فیصلے خود کیجئے، اسلم بیگ کے لئے مارشل لاء ممکن نہ تھا، گلیوں اور بازاروں میں ان کی ذات شک میں ہے تو کیا ’’جی ایچ کیو‘‘ بے خبر رہا ہوگا؟ یہی اصل وجہ تھی کہ آئین کو کھنگالا گیا، آئین سے ہما نکلا اورغلام اسحٰق صاحب کے کندھے پر آن لگا، اب وہ سربراہ تھے پاکستانی ریاست کے۔ شاہد خاقان نے بھی شکر گزاری، ممنونیت اور احسان مندی کی مدت پوری کی، اب وہ وزیراعظم ہیں، فیصلے کریں، سیاست بھی، قسمت نے ساتھ دیا، حالات نے مدد کی۔ تقدیر کی بخشش کو تدبیر سے سنبھالو تو دس ماہ کی مدت بڑھتے بڑھتے بڑھ جائیگی، شرط صرف اتنی ہے، نیکی اور شرافت سے قوم کی خدمت ہو۔ مسلم لیگ (نون) میں وزرائے اعظم کی نہ ختم ہونے والی لمبی قطار ہے، ایک سے بڑھ کرایک لیکن دلوں کے وزیراعظم نوازشریف ہیں مگر دلوں کے وزیراعظم کو اب کوئی بھی دل سے نکال کر عہدے پر بٹھا نہیں سکتا اور دلوں میں رہ کر ’’فواد حسن فواد‘‘ کے ذریعے احکامات تو لکھوائے نہیں جاسکتے، سرکاری پروٹوکول نہ سیکورٹی نہ مرضی کے منصوبے تو پھر دلوں میں رہنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟ دلوں میں اگرچہ دھڑکن ہوتی ہے مگر اس دھڑکن کی کوئی خبر بنتی ہے نہ سرخی جمتی ہے۔ خبر نہیں بنتی، تصویر نہیں چھپتی تو بھاڑ میں گئی دلوں کی حکومت نوازشریف سوچتے توہونگے کہ دلوں میں بیشک حریف کو رکھئے، رقیب کو رکھئے ہمیں ایک دِکھنے والا وزیراعظم ہی رہنے دیں تو بھلا ہے اپنا بھی اور ان سب کا جن کے مفادات میرے ساتھ جڑے ہیں، ٹی وی کی اسکرینوں اور اخبارات کے کالموں میں ان کی ہا ہا کار سنی نہ سینہ کوبی دیکھی جاسکتی ہے۔ نقادوں کی تو عادت ہے وہ تنقید کرتے رہیں گے کہ پاکستان ہائی کمیشن لندن چھٹی کے دن کھولا گیا، سابق وزیراعظم کو حکمران کا سا پروٹوکول ملا ہائی کمیشن میں نماز عید ادا ہوئی، وہ لندن کی سب سے بڑی ریجنٹ جامع مسجد میں نماز عید ادا کیا کرتے تھے، کوئی وجہ تو رہی ہوگی کہ لندن میں بھی سرکاری ملازمین کے جھرمٹ میں نماز عید ادا کریں۔ یہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی بھی عجیب ہیں یہ پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے لیکن پاکستانی لیڈروں کی ذرا بھی عزت نہیں کرتے۔ لندن کے بازاروں میں شرجیل میمن، مولانا فضل الرحمٰن، حسین نواز نہ جانے کون کون ان کی مشق ستم کا نشانہ بنا حتیٰ کہ مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں دلوں کے وزیراعظم کوبھی نہ بخشا گیا، کیا ضروری ہے کہ محبوب عوام بے نام پاکستانیوں کی کڑوی کسیلی سنے، اس سے تو بہتر ہے تنہائی۔
شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم پانچ ہفتوں میں قومی اسمبلی کے کئی اجلاسوں میں شرکت کی، متعدد دفعہ سینیٹ گئے۔ کراچی، کوئٹہ، لاہور کے دورے کئے۔ دفاعی کمیٹی کے تین اجلاس ہوئے، اتنے ہی کابینہ کے، قومی اقتصادی کمیٹی دو مرتبہ بلائی گئی جس کی صدارت وزیراعظم نے خود کی۔ اشتہاروں میں کمی کے ساتھ ان میں اپنی تصویر کی اشاعت سے منع کیا، غیر ضروری پروٹوکول سے اجتناب کیا، نئے وزیراعظم نے ٹھیک کہا تھا کہ 45دنوں میںبرسوں کا کام کریں گے، اپنے کہے کو سچ کر دکھایا، ان پانچ ہفتوں کی کارکردگی گزشتہ چار سال کی لاف زنی پر بھاری نظر آئے گی، اسی لئے تو کہتے ہیں ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔‘‘ پہلی دفعہ قوم دیکھے گی کہ مسلم لیگ نون کا کوئی وزیراعظم بے جھجک بی بی سی اور سی این این کو انٹرویو دے اور غیر ملکی سربراہوں سے ’’چٹ‘‘ پکڑے بغیر مخاطب ہو اس سے بھی یہ ثابت ہے کہ ’’تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آگئی ہے۔‘‘

بشکريہ روزنامہ جنگ

Leave a Reply