Roshan Apna Ghar for overseas Pakistanis روشن اپنا گھر

  • by

 Prime Minister Imran Khan has launched “Roshan Apna Ghar” housing scheme for overseas Pakistanis. It will enable overseas Pakistanis to buy or obtain financing for a house in their home country through the Roshan Digital Account.

Speaking at the launching ceremony of the scheme in Islamabad, Prime Minister Khan said Pakistani expats are the country’s biggest asset.

“Unfortunately, we have not been able to tap the full potential of overseas Pakistanis to our advantage,” he said.

He pointed out the incumbent government is taking steps to enable expats to invest in the country.

The prime minister noted that land-grabbing is a big problem as plots of many overseas Pakistanis were encroached upon in the country. “We are waging a jehad against the Qabza mafia. Efforts are afoot to eliminate the menace of land grabbing,” he vowed.

Under the Roshan Apna Ghar scheme, non-resident Pakistanis can now easily buy or obtain financing for a house with the comfort of sitting in their houses abroad and without having to visit a bank branch, the State Bank of Pakistan said in a statement.

“They can buy or finance a house from bank’s pre-approved projects or any other property. The tax regime is simple and final. In case of sale of property, the principal amount invested can be remitted abroad without needing any permission,” it said.

“The profit rates are attractive. Financing is available in both conventional and Shariah compliant versions.”

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بیرون ملک موجود پاکستانیوں کو روشن اپنا گھر جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے شامل کرکے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم کرسکتے ہیں اور یہ اسکیم گیم چینجر ہے۔

اسلام آباد میں روشن اپنا گھر پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں خاص طور پر اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:خود کو ڈیموکریٹس کہنے والے جمہوری حکومت گرانے کیلئے فوج کے پیچھے پڑے ہیں، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ ہم نے بدقسمتی سے پاکستان کے دیگر اثاثوں کی طرح سمندر پار پاکستانیوں کو اس طرح استعمال نہیں کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا، سب سے کم ان سے فائدہ اٹھایا، صرف ترسیلات زر ہوتی ہیں، وہ انہیں ویسے بھی اپنے خاندانوں کے لیے کرنی ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں ریکارڈ ترسیلات ہوئیں لیکن یہ صرف ایک قطرہ ہے، اصل میں ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی کے برابر 90 لاکھ پاکستانیوں کے پاس باہر پیسہ ہے، ہماری پوری کوشش تھی کہ کیسے اس کو لاسکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ سرمایہ کاری ہوگی، ٹیکنیکل اسکلز اور باصلاحیت پاکستانیوں کو ملک میں واپس لانا تھا لیکن بدقسمتی سے ہم وہ ماحول نہیں دے سکے کہ وہ واپس آکر یہاں کام کرسکتے لیکن ہم بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے اور جو لوگ باہر کرپشن فری ماحول میں کام کرنے کے عادی ہیں وہ کرپٹ ماحول میں کام نہیں کرسکتے، اس لیے ہم آسانی فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ کام کرنے کے لیے باہر جاتے ہیں، ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان میں گھر بنایا جائے، اس کے لیے ان کو بڑے مسائل ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہاں قبضہ گروپ بیٹھے ہوئے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے بڑے لوگوں نے کہا، ہم نے محنت کرکے ایک پلاٹ حاصل کیا اور چند سال بعد پتہ چلا کہ قبضہ ہوگیا، پھر عدالتوں کے چکر لگاتے رہے اور آخر ان کے ساتھ کم داموں میں معاملہ ختم کردیتے ہیں اور کئی دفعہ انہی پر مقدمہ ہوجاتا ہے، یعنی ان کے پلاٹ پر بھی قبضہ ہوگیا اور مقدمہ بھی ان کے خلاف ہوگیا۔

Leave a Reply