Stream of “sub-consciousness” ;-) Plato’s Lecture لاشعور کی رو: افلاطون کا لیکچر 1


Stream of “sub-consciousness” 😉 Plato’s Lecture لاشعور کی رو: افلاطون کا لیکچر

Note: An English Introduction follows this Urdu Text

پیارے دوستو، سلام۔

خدا کرے کہ آپ کا یہ دن بھی بہت خوشگوار گزرے۔

جستجو میڈیا، اور جستجو ٹی وی، نے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ ہم آپ کے لیے ایسے پروگرام پیش کریں گے جو ہوں گے ” ہر راہ گزر سے آگے”۔

چنانچہ، جستجو نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس کا نام ہے ” چھپے ہوئے / پوشیدہ پاکستانی خزانے”۔

اس سیریز میں ہم آپ کا تعارف ایسے پاکستانیوں سے کرائیں گے جن کی تخلیقات اور کارنامے ابھی تک عوام الناس کے سامنے نہیں آئے ہیں، اور نہ ہی نقادوں کی توجہ ابھی تک ان کی جانب مبذول ہوئی ہے۔

اس سلسلہ کا پہلا پروگرام پیش خدمت ہے۔

اس میں جناب انجینیئر محمد اصغر خان صاحب، اپنے ایک انوکھے تجربہ سے آپ کو آگاہ کررہے ہیں۔ انہوں نے ادیبوں کی “شعور کی رو” کے ضمن میں ایک پرلطف تجربہ کیا ہے۔ اور وہ اسے خود ہی سنا بھی رہے ہیں۔

جناب محمد اصغر خان صاحب دو کتابوں کے مصنف ہیں۔ ایک ہے ان کی شاعری کا دیوان “آتش زیرپا” اور دوسری ان کی حکایت زندگی “خان کی ڈائری”۔

پھر دیر کیا ہے، آپ اس دل چسپ تحریر”افلاطون کا اٹھارواں لیکچر، اقوام متحدہ میں” سنیں، اور سر دھنیں۔

ہم آپ کی آراء کے منتظر رہیِں گے۔ برائے مہربانی اپنی اس پسندیدہ ویب سائٹ کی سہولت استمعال کیجیے، اور اپنی رائے تحریر کیجیے۔

اگر آپ بھی کسی انوکھے ادبی یا دیگر انوکھے تجربہ سازوں سے آگاہ ہیں تو ہم سے رابطہ کریں۔ ہمارا ای میل پتہ ہے:۔

JustujuTv@gmail.com

The Stream of Consciousness: Plato\'s 18th Lecture at UN 😉 شعور کی رو: افلاطون کا یو این میں لیکچر

Dear Friends, ladies and gentlemen

Salaam. A very nice and pleasant day to you.

At JustujuTv we promised you to take you “Beyond All Dimensions”, presenting “All colors of Life”.

So, here JustujuTv proudly initiates a new series “Hidden Pakistani Treasures”.

In this series we shall present to you wonderful works of such persons, who have not caught the attention of the critique circles so far. But their creations are astounding.

In this first episode, Engineer Mohammad Asghar Khan, has experimented with the famous “Stream of Consciousness” mode of writing, and has produced a marvellous piece. He is narrating it himself for you.

He has written two books in Urdu: 1- Walking on Fire, which is a collection of his serious poetry, and 2- Khan’s Diary, which revolves around colorful experiences of his life. He narrates them in a light hearted manner keeping the reader fixated with his talks.

No go ahead and hear his essay: “Plato’s 18th Lecture at UN”.

Please do not forget to give your comments and feedback using the facilities of your this lovely website.

If you wish to recommend some eccentric works, please write to us at: JustujuTv@gmail.com.

Yours Very Questly,
JustujuTv: All Colors of Life, Beyond All Dimensions


About Justuju

About Justuju جستجو کی جستجوہاشم سید محمد بن قاسمجناب محمد بن قاسم صاحب بین الاقوامی صحافت اور ادب سے گزشتہ تین دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ آپ کے افکار، خیالات، افسانے، طنزومزاح، اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرے اردو اور انگریزی میں شائع ہوتے رہے ہیں جن کا عنوان:۔۔جستجو۔۔The Questہے۔آپ بلاد العرب کے سب سے پہلے روزنامہِ "اردو نیوز" کے لیے اس کی 1994میں اجراء کے وقت سے اس سے ایک آزاد قلم ادیب کی حیثیت سے وابستہ رہے، اور سعودی عرب کے سب سے بڑے اخبار عرب نیوز کےلیے بھی رپورٹنگ کی۔ ریاض سے ہی وہ پاکستان کی ایک اہم نیوز ایجنسی آن لائن نیوز نیٹ ورک کے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے۔جناب محمد بن قاسم مالی اور کمپیوٹنگ کے امور کے کنسلٹنٹ اور اداروں کی ترقّی اور ترویج و بقا، اور اس کے سماجی پہلوؤں پر دسترس رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کے لیے کام کرچکے ہیں۔ ان میں نیویارک کی کمپیوٹر ایسوسی ایٹس اور مشہور بین الاقوامی اکاؤنٹنگ فرم کے پی ایم جی انٹرنیشنل، اور کئی سعودی ہسپتال شامل ہیں۔ آپ سعودی عرب کی سب سے پہلی رسمی کمپیوٹر سوسائٹی کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ ان کی دیگر جاری سرگرمیوں میں اردو انگریزی مسوّدات کی ادارت، اور اشاعت ہیں۔جناب محمد بن قاسم صاحب کی تحریریں انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک وسیع حلقہ اشاعت اور قرات رکھتی ہیں۔انٹرنیٹ پر شائع شدہ مواد کے علاوہ، آپ کی ایک مقبول تصنیف "زرگرفت" ہے جو سعودی عرب کا احوال ایک انوکھے، دل چسپ، اور پُر لطف انداز میں پیش کرتی ہے۔ آپ کی دل چسپ تحریریں اردو مزاح کے علم بردار ماہانہ رسالہِ شگوفہ، حیدرآباد دکّن، میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔

Leave a Reply

One thought on “Stream of “sub-consciousness” ;-) Plato’s Lecture لاشعور کی رو: افلاطون کا لیکچر