ستاروں پر یقین رکھنے والوں کے ستارے بدل گئے

  • by

نیٹ نیوز-امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے دعویٰ کیا ہے کہ علم نجوم میں قسمت کا حال بتانے والے آسمانی بروج کی تاریخوں میں ایک دو دن کا نہیں بلکہ تقریباً ایک مہینے کا فرق پڑچکا ہے ۔برطانوی اخبار ڈیلی مرر کے مطابق ناسا کی ’’سپیس پلیس‘‘ نامی ویب سائٹ پر شائع شدہ مضمون میں یہ بتایا گیا ہے کہ علم نجوم کا فلکیات سے کوئی تعلق نہیں اور دائرۃ البروج کی 12 نہیں بلکہ13 علامتیں ہیں،اضافی علامت کو اوفیوچس کے نام سے جانا جاتا ہے ۔اسکا مطلب ہے کہ ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کی سالگرہ ایک مختلف علامت کے تحت آ جائے ۔اگر نجومی واقعی سائنس سے کوئی تعلق رکھتے تو وہ دائرۃ البروج کو 12 کے بجائے 13 حصوں میں تقسیم کرتے تاکہ زیادہ درست حساب لگایا جا سکتا۔ اس سے پہلے بھی خلائی تحقیق کے سنجیدہ اداروں اور انٹرنیشنل ایسٹرونومیکل ایسوسی ایشن (آئی اے یو) سمیت، ماہرینِ فلکیات کی تنظیمیں متعدد بار نجومیوں کے حساب کتاب میں غلطیوں کی نشاندہی کر چکی ہیں اور یہ بتا چکی ہیں کہ نجومی جن اعداد و شمار کی بنیاد پر برجوں کے بارے میں بتاتے ہیں وہ کم و بیش 3 ہزار سال پرانے ہیں اور اس پورے عرصے کے دوران کسی برج میں سورج کی آمد و رخصت کے دنوں میں لگ بھگ ایک مہینے کا فرق آچکا ہے اور ہر سال 20 منٹ 22 سیکنڈ کا فرق بڑھتا جا رہا ہے ۔مثلاً اگر ہم برجِ جدی (کیپریکورن) کی بات کریں تو علمِ نجوم کے مطابق سورج اس میں 22 دسمبر سے 20 جنوری تک رہتا ہے ، یعنی ان تاریخوں کے دوران پیدا ہونیوالے لوگوں کا تعلق برجِ جدّی سے ہوتا ہے ۔ اسکے برعکس فلکیات کے تحت لگائے گئے محتاط اور سائنسی حساب کتاب سے پتا چلتا ہے کہ آج برج جدّی میں سورج 20 جنوری سے 16 فروری تک ہوتا ہے ۔ اسی طرح بُرج دلو (ایکویریئس) کی مدت 21 جنوری تا 19 فروری کے بجائے 16 فروری تا 11 مارچ ہو چکی ہے ۔ برج حُوت (پائسز) کی مدت 20 فروری تا 20 مارچ کے بجائے 11 مارچ تا 18 اپریل ہو چکی ہے ۔ برج حمل (ایریئس) کی مدت 21 مارچ تا 20 اپریل کے بجائے 18 اپریل تا 13 مئی ہو چکی ہے ۔برج ثور (ٹارس) کی مدت 21 اپریل تا 21 مئی کے بجائے 13 مئی سے 21 جون تک ہوچکی ہے ۔ برجِ جوزا (جیمنی) کی مدت 22 مئی تا 21 جون کے بجائے 21 جون تا 20 جولائی تک ہو چکی ہے ۔ برج سرطان (کینسر) کی مدت 22 جون تا 23 جولائی کے بجائے 20 جولائی سے 10 اگست تک ہو چکی ہے ۔ برج اسد (لیو) کی مدت 24 جولائی تا 23 اگست کے بجائے 10 اگست تا 16 ستمبر ہو چکی ہے ۔ برج سنبلہ (وِرگو) کی مدت 24 اگست تا 23 ستمبر کے بجائے 16 ستمبر سے 30 اکتوبر تک ہو چکی ہے ۔ برج میزان (لبرا) کی مدت 24 ستمبر تا 23 اکتوبر کے بجائے 30 اکتوبر تا 23 نومبر ہو چکی ہے ۔ برج عقرب (اسکارپیو) کی مدت 24 اکتوبر تا 22 نومبر کے بجائے 23 نومبر سے 17 دسمبر تک اور برج قوس (سیجی ٹیریئس) کی مدت 23 نومبر تا 21 دسمبر کے بجائے 17 دسمبر سے 20 جنوری تک ہو چکی ہے ۔کسی برج میں سورج کے داخلے کا وقت بھی ہر سال 20 منٹ 22 سیکنڈ کی شرح سے مسلسل پیچھے ہٹ رہا ہے یعنی اگلے 71 سال میں سورج کے کسی برج میں داخل ہونے کی تاریخ مزید ایک دن پیچھے ہٹ چکی ہو گی۔

Leave a Reply