A new poet’s woes ;-) ایک نئے شاعر کا مخمصہ


Watch Justuju TV

شعر موزوں کرنے کیلیے درکار ہے صرف فہم شاعر

پر سنانے کیلیے ان اشعار کو چاہیے فن ساحر

Justuju TV

ایک شاعرکا ناممکن مشن

ایک نئے شاعر کا مخمصہ


محمد بن قاسم



شعر موزوں کرنے کیلیے درکار ہے صرف فہم شاعر


پر سنانے کیلیے ان اشعار کو چاہیے فن ساحر



ہے کرتا نظم اسباق گوناگوں شاعر کا ضمیر


گھاس ڈالتا ہے مگر ان کو نہ کوئی سامع و ظہیر



سخن شنوی ہوتی ہی نہیں ان زعماء کا خمیر


سخن گستر آپ ہی پڑھ لیجیے یہ نوشتہء تقدیر



خوب الفاظ سے کھینچی ہے آپ نے یہ تصویر


ملی دولت نہ شعراء کو تو مل جائے گی توقیر



بن قاسم اب سمیٹ لے اپنا یہ کلام حقیر


آنے لگی ہے ہر سو یہ صدا، اے شاعر پر تقصیر


*



About Justuju

About Justuju جستجو کی جستجوہاشم سید محمد بن قاسمجناب محمد بن قاسم صاحب بین الاقوامی صحافت اور ادب سے گزشتہ تین دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ آپ کے افکار، خیالات، افسانے، طنزومزاح، اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرے اردو اور انگریزی میں شائع ہوتے رہے ہیں جن کا عنوان:۔۔جستجو۔۔The Questہے۔آپ بلاد العرب کے سب سے پہلے روزنامہِ "اردو نیوز" کے لیے اس کی 1994میں اجراء کے وقت سے اس سے ایک آزاد قلم ادیب کی حیثیت سے وابستہ رہے، اور سعودی عرب کے سب سے بڑے اخبار عرب نیوز کےلیے بھی رپورٹنگ کی۔ ریاض سے ہی وہ پاکستان کی ایک اہم نیوز ایجنسی آن لائن نیوز نیٹ ورک کے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے۔جناب محمد بن قاسم مالی اور کمپیوٹنگ کے امور کے کنسلٹنٹ اور اداروں کی ترقّی اور ترویج و بقا، اور اس کے سماجی پہلوؤں پر دسترس رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کے لیے کام کرچکے ہیں۔ ان میں نیویارک کی کمپیوٹر ایسوسی ایٹس اور مشہور بین الاقوامی اکاؤنٹنگ فرم کے پی ایم جی انٹرنیشنل، اور کئی سعودی ہسپتال شامل ہیں۔ آپ سعودی عرب کی سب سے پہلی رسمی کمپیوٹر سوسائٹی کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ ان کی دیگر جاری سرگرمیوں میں اردو انگریزی مسوّدات کی ادارت، اور اشاعت ہیں۔جناب محمد بن قاسم صاحب کی تحریریں انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک وسیع حلقہ اشاعت اور قرات رکھتی ہیں۔انٹرنیٹ پر شائع شدہ مواد کے علاوہ، آپ کی ایک مقبول تصنیف "زرگرفت" ہے جو سعودی عرب کا احوال ایک انوکھے، دل چسپ، اور پُر لطف انداز میں پیش کرتی ہے۔ آپ کی دل چسپ تحریریں اردو مزاح کے علم بردار ماہانہ رسالہِ شگوفہ، حیدرآباد دکّن، میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔

Leave a Reply