حویلی کے بھوت پریت۔۔۔۔(مستنصر حسین تارڑ)

ایک متناسب بدن کی دراز قامت خاتون میرے قریب سے گزریں تو میرا دل دھک سے رہ گیا اورمیں نے اپنی بیگم کے کندھے کوجھنجھوڑ کر کہا’’تم نے دیکھا؟ تم نے دیکھا؟‘‘
اس نے بیزار ہوکر ادھر ادھر دیکھا اورکہا’’کیادیکھا؟‘‘
’’ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا’’وہ خاتون اس نے صرف ایک قمیض پہن رکھی ہے اور اورشاید شلوار پہننا بھول گئی ہے‘‘
’’کچھ حیا کرو‘‘اس نے مجھے ڈانٹا’’ تمہیں اونچی سوسائٹی کی محفلوں میںبیٹھنے کاکچھ تجربہ نہیں اس نے شلوار نہیں چست پاجامہ پہن رکھاہے
۔

جوگھٹنوں سے ذرا نیچے آکر ختم ہوجاتاہے ان دنوں یہی فیشن ہے۔
اب غور کیاتو واقعی قمیض کے آخر میں دوچار گرہ کچھ تھا لیکن پنڈلیاں عیاں تھیں اس دوران ایک اورخاتون ویڈیو کیمرے کی زد میںآئی تو میرا دل دوبارہ دھک سے رہ گیا’’ بیگم اب تم بتاؤ کہ اس خاتون نے کیا پہنا ہوا ہے اگر کچھ پہناہوا ہے تو ؟‘‘
بیگم نے مجھے بری طرح گھورا’’ تم اس عمر میں بھی باز نہیںآتے کیوں ادھر ادھر تانک جھانک کررہے ہو‘‘
’’بیگم میں اتنی دیرسے بیکار بیٹھا انگلیاں چٹخا رہاہوں کیا آنکھیں بند کرکے بیٹھ جاؤں‘‘ میں نے غصے میں آکرکہا’’ اور میں تانک جھانک نہیں کررہا یہاں موجود اکثر خواتین مجھ سے تانک جھانک کروا رہی ہیں آخر کیوں ایسے لباس پہنتی ہیں‘‘
’’ان دنوں یہی فیشن ہے‘‘ اس نے مسکرا کرکہا
اس دوران ایک نوجوان،قیاس تو یہی تھا کہ وہ ایک نوجوان تھا عجیب زنانہ سے کپڑے پہنے مٹکتاہوا ہمارے پاس سے گزر گیا۔
’’ہاہائے‘‘ میری بیگم نے لبوں پرہتھیلی رکھ کرکہا’’ یہ پتہ نہیں بندہ تھا یازنانی‘‘
’’ان دنوں یہی فیشن ہے‘‘ میں نے بدلہ لے لیا۔
کچھ دیربعد اس ہجوم میں میری بیگم کوایک شناسا خاتون نظر آگئیں اوروہ مجھے تنہا چھوڑ کرلپکتی ہوئی ان کے پاس چلی گئی کہ اسے ابھی تک کوئی جاننے والی نہ ملی تھی۔
یہ ایک بہت وسیع لان میں ایستادہ شاہی خیموں کے اندر ایک شاہانہ شادی کی تقریب تھی ان خیموں کااندرون روسی زاروںاورفرانسیسی بادشاہوں کے محلات سے کہیں زیادہ شان وشوکت اورزرق بھڑک والاتھا قدم قدم پر قد آدم آئینے تھے۔ سینکڑوں کی تعداد میں گلدستے تھے۔ ہزاروں لائٹس تھیں۔ ہرمیز کی آرائش جدا تھی۔ ایکڑ بھر کے رقبے میں بچھے قالین نئے نکور اورمہنگے ترین تھے۔ موسیقی تھی اورہزاروں مہمان مدعو تھے اوران میںسے بیشتر ایسے تھے جونہ سلام کرتے تھے اورنہ ہاتھ ملاتے تھے ایک دوسرے کودیکھتے ہی مختصرسا’’ہائے‘‘ کہہ کرچوما چاٹی میں مشغول ہوجاتے تھے۔ ظاہر ہے میں ان میںسے کسی کوبھی نہ جانتا تھا اور ظاہر ہے وہ مجھے نہ جانتے تھے بلکہ حیرت زدہ ہوتے تھے کہ اسے یہاں کس نے بلالیا ہے اور دوچار جوپہچان لیتے تھے وہ مربیانہ انداز میں میری حوصلہ افزائی کرکے گزر جاتے تھے کہ ہم آپ کودیکھتے رہتے ہیں یوآرگڈ اورمجھے بھوک لگی تھی اگرچہ میں رات کاکھانا قدرے تاخیر سے کھاتاہوں لیکن یہاںتو رات بھی گزرنے والی تھی اورکھانے کے ابتدائی آثار بھی کہیں نظر نہ آتے تھے ہجوم میں مجھے کچھ سیاستدان اور چندایک مشہور ہستیاں نظر آئیں جوکسی صاحب کومبارک باد دے رہے تھے کہ وہ چندروز میں مرکز میں وزیرہونے والے تھے۔ کچھ ایسے بھی تھے جومجھے کسی حد تک جانتے تھے لیکن آج کی شب وہ اجتناب کررہے تھے ،میرے ساتھ دیکھے جانا نہیںچاہتے تھے کہ آخر ایک ادیب اورکالم نگار کے ساتھ دیکھا جانا کچھ باعث توقیر نہ تھا اس دوران ایک خاصے فربہ صاحب دھم سے میرے برابر میں بیٹھ گئے اورامریکی الیکشن ،آئی ایم ایف کے قرضوں سے ہوتے ہوئے مہنگائی اورغربت تک آگئے وہ مجھ سے تبادلہ خیال کرنے کے خواہاں نہ تھے بلکہ میرے ذہنی ارتقا کی خاطر ایک تقریر سی کررہے تھے تارڑ صاحب اس ملک کیلئے میرا دل روتاہے یہ کہہ کرانہوں نے ایک بڑے رومال میںایک لمبی شوں کی میرا دل اس ملک کے غریبوںاور بھوکوں کیلئے روتا ہے لوگ خود کشیاں کررہے ہیں ،مہنگائی عروج پرہے اورحکومت کچھ نہیںکرتی‘‘
’’آپ کوکس نے بتایاہے کہ مہنگائی عروج پرہے؟‘‘
’’میرے ملازموں نے بتایاہے کہ ان کی روٹی پوری نہیںہوتی میں ان سے پوچھتا رہتاہوں‘‘
مجھے یقین تھا کہ اس تقریب میںشامل تمام لوگ نہایت حساس اور دردمند تھے اور اپنے ملازموں سے پوچھتے رہتے تھے کہ روٹی پوری ہوتی ہے یانہیں۔
روٹی کے ذکرسے میری بھوک پھربھڑک اٹھی اورمیں نے اپنے پاس بیٹھے ایک صاحب سے دریافت کیاکہ کھانا کب تک لگ جانے کاامکان ہے انہوں نے ذرا ناگواری سے کہاکہ ابھی تو بچیاں بھنگڑا ڈال رہی ہیں فارغ ہوجائیںتو پھرکھانابھی کھالیںگے درجن بھربچیاں دولہا دولہن کی سٹیج کے سامنے ہندوستانی فلمی گانوں کی موسیقی پردل کی اوربدن کی بھڑاس نکال رہی تھیں۔
بالآخر رات کے دوبجے کھانا نصیب ہوا میرے برابر میں بیٹھے فربہ صاحب غریبوں کی حالت زار پراتنے دکھی تھے کہ کم ازکم سو غریبوں کے حصے کاکھانا کھاگئے بعد میں قہوہ سرکتے ہوئے کہنے لگے’’آپ بھی تو ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کچھ کہئے‘‘
’’ میں نے حال ہی میںایک لطیفہ سناہے وہ پیش کرتاہوں‘‘
’’واہ واہ اتنے اچھے کھانے کے بعد لطیفوں کابہت لطف آتاہے‘‘
’’ایک پرانی حویلی کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں بھوت پریت رہتے ہیں ایک بچے نے ہمت کرکے اس کے دروازے پردستک دی تو دوصاحب باہر آگئے کہ کیابات ہے بچے نے کہاکہ جی ہم نے سناہے کہ اس حویلی کے اندر بھوت پریت رہتے ہیں تو وہ ہنس کرکہنے لگے نہیںبھئی ہم اس حویلی میں پچھلے سات آٹھ سوبرس سے رہتے ہیں بھوت پریت ہوتے تو ہمیں نظر نہ آتے۔ تو جناب پاکستان بھی ایک ایسی ہی حویلی ہے جس میں ایک عرصے سے بھوت پریت رہتے ہیں اوران میںسے بیشتر اس محفل میںموجود ہیں انہیں حویلی میں سے نکال دیجئے تو سب ٹھیک ہوجائے گا
’’اس محفل میںموجود ہیں؟‘‘انہوں نے حیرت سے کہا’’اگر ہوتے تو مجھے نظر نہ آتے‘‘

Courtesy: Daily Jinnah

Leave a Reply