Oct 302008
 
بدھ اکتوبر 15, 2008

کسی بھی ویرانے میںاگر ایک کنواں کھودا جائے تو اس ویرانے میں بہار آجاتی ہے آس پاس کی بنجرزمینیںآباد ہوجاتی ہیں طویل راستوں کے مسافر اس کنویںپررک کراپنی پیاس بجھاتے ہیں کنویںکے گرد امڈتے اوربلند ہوتے شیشم اورپیپل کے درختوں کی چھاؤں میںبیٹھ کراپنے سفر کی تھکن اتارتے ہیں ،دم بھرسولیتے ہیںاورپھراس شخص کودعائیںدیتے جس نے وہ کنواں کھدوایا تھا پھرسے سفر پرروانہ ہوجاتے ہیں درختوںپر پرندے اپنے گھونسلے بنالیتے ہیں چنانچہ ایک کنواں ایک کائنات ہوجاتاہے جس میں زندگی رواں ہوجاتی ہے۔ جن زمانوں میںابھی ٹیوب ویل رائج نہیںہوئے تھے چین سے پیٹرانجن نہیںآئے تھے میںان زمانوں کے کنویں کاتذکرہ کررہاہوں۔
تقریباً ہرشخص نے اپنی زندگی میںایک نہ ایک کنواںتو دیکھا ہوگا لیکن ہم میںسے کتنے ہیں جنہوں نے ایک ویرانے میںکنواں کھدتا دیکھا ہو۔ میں نے دیکھا ہے یہ تقریباً ساٹھ برس پیشتر کاقصہ ہے نہ صرف ہمارے گھر کے ہرفرد کوبلکہ آس پاس کے جتنے لوگ بھی تھے سب کوخبر ہوگئی کہ ایک نیا کنواں کھودا جارہاہے یہ ان زمانوں کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز تھی خبروں کی ہیڈ لائن تھی۔
کنواں کھودنا ایک خصوصی مہارت تھی اوراس کے ماہرلوگ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے یہ کام کئی پشتوںسے ان کے خاندانوں میں چلا آتا تھا کہ کوئی بھی شخص یہ ہنر سیکھ نہیںسکتاتھا کیونکہ ایسے ماہر یہ ہنرکسی کوسکھاتے ہی نہیںتھے کنواں کھودنے کے کچھ راز تھے جوصرف انہی کے سینوں میںپوشیدہ تھے۔ کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ وہ کنواںکھودلیں پروہ ناکام ہوگئے اکثران کاکھوداہوا کنواںڈھے جاتا اوراگر قائم رہتا تواس کی تہہ میںسے پانی برآمد نہ ہوتا۔
جب کنواںکھودا جارہا ہو تا تھا تووہاںایک ہجوم ہوتا تھا جوساراسارا دن وہاں موجود رہتا اورہم بچوں کیلئے تو یہ دنیا کی سب سے دلچسپ تفریح تھی ہم کھودے جانے والے کنویں کے گرد مٹی پربراجمان اس کے اندر جھانکتے رہتے۔ اس کے ساتھ اینٹوںسے تعمیرکردہ گولائی ہولے ہولے سطح زمین سے نیچے ہونے لگتی۔ جس روز شنید تھی کہ آج کنویں کی تہہ میںسے پانی پھوٹے گا ہم صبح سویرے وہاں پہنچ گئے تھے۔ بہت سے لوگوں نے ہمیںبتایا تھا کہ جب کنویں کے پانی تہہ میںسے پہلی بار پھوٹتے ہیںتو زیرزمین زندگی بسرکرنے والے چھوٹے چھوٹے بونے ان کے ساتھ نمودارہوتے ہیں اوروہ باہر آکر آس پاس کے کھیتوں میں غائب ہوجاتے ہیں۔ ہربچہ اس آس میںتھا کہ وہ بونے دیکھے گا اورکم ازکم ایک بونے کوپکڑ کراپنے گھر لے جائے گا۔ شام ہونے کوتھی جب کنویں کی خشک تہہ میںسے پانی ابلنے لگا اوراس لمحے کنارے پربیٹھے لوگوں میںسے کسی نے نعرہ لگایا بونے کہاںہیں ،کہاں ہیں سب بچے شور مچانے لگے ابھی کنویںسے نکلے تھے اوراچھل کروہ جوکھیت ہیںان کے اندر چلے گئے ہیں کم ازکم دو تین معتبر حضرات نے جوسب کے سب تھے گواہی دی کہ ہاںمیں نے اپنی آنکھوںسے دوبونے دیکھے ہیں ان میںسے ایک نے مسکرا کرماتھے پرہاتھ رکھ کرمجھے سلام بھی کیاتھا ان چشم دید گواہوں کی ایمانداری پرکون شک کرسکتاہے چنانچہ ہربچے کومحسوس ہواکہ ہاںکنویں کے اندر سے کچھ برآمدتو ہواتھا ان پرکچھ اثرہی نہیںہوتا۔ سب لوگ جان گئے کہ یہ بونے چاچا قادر بخش کی افیون کی اونگھ کے کرشمے ہیں ورنہ کسی اورکونظرنہ آتے۔ پھرکسی نے پوچھا کہ چاچا تم آج خاص طورپر انہیںکیوںبرا بھلا کہہ رہے ہو۔
چاچا ذرا رنجیدہ ہوکرکہنے لگا’’تمہیںپتہ ہے آج انہوں نے مجھ سے کیاکہا! مجھے دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگے قادر بخش ہماری عزت کیاکرو یہ جو تم نے پاکستان بنایاہے ناں اس پرایک دن ہمارا بونوں کاراج ہوگا اس پرمجھے طیش آگیا کہ نامراد بونے میرے وطن پرراج کریںگے یہ کیسے ہوسکتاہے ویسے میںان بونوں سے بہت تنگ آیا ہواہوں‘‘۔

ا س قصے کوساٹھ برس ہونے کوآئے ہیںاور میںبھی عمررسیدہ ہورہاہوں شاید حواس میںنہیںرہا کہ پچھلے چند برسوںسے مجھے بھی وہی بونے دکھائی دے رہے ہیںکسی ڈائریکٹر، ایم ڈی، سیکرٹری یاصاحب اختیار کے دفتر کے اندر جاتا ہوںتو مجھے وہاںایک بونا بیٹھا ہوادکھائی دیتاہے جومجھے آنکھ مار کرکہتاہے‘‘ہیلوتارڑ‘‘ کوئی سوٹ میںہے تو کوئی کرتے شلوار میںاورکوئی خاکی وردی میںاورکہتاہے ہیلوتارڑ‘‘ ہم نے تمہارے چاچے قادر بخش سے کہاتھا ناں کہ ایک دن ہمارا راج ہوگا آؤ ہماری عزت کرو‘‘ اورمیںان کے سامنے سرجھکا دیتاہوں یہ کیسے ہوسکاہے کہ مجھے ہرجانب بونے نظر آتے ہیں اگروہ ہوتے تو دوسروں کوبھی نظر آتے میںواقعی مخبوط الحواس ہوچکاہوں بڑھاپا بھی کیسی واہیات شے ہے ورنہ بونے کس طرح راج کرسکتے ہیں۔

Source: Daily Jinnah

 Posted by at 9:48 pm

Leave a Reply

%d bloggers like this: