سابق صدر کی ڈائری -وقار خان


ہفتہ ستمبر 27, 2008

میں شام کو لان میں واک کر رہا تھا کہ اچانک ایک دھماکے کی آواز آئی۔ میں نے دھماکے کی سمت پھرتی سے اس طرح یو ٹرن لیا ، جیسے میں نے بھلے وقتوںمیں ایک ’ لانگ ڈسٹنس کال ‘‘ پر افغان پالیسی پر لیا تھا۔ کہیں بھی دھوئیں وغیرہ کے آثار نہ تھے ۔ میں نے فوراً دھماکے کی رپورٹ طلب کرنے کا سوچا مگر پھر خیال آیا کہ ’’ وہ دن ہوا ہوئے ، جب پسینہ گلاب تھا‘‘۔ ۔ ۔ میں بوجھل قدموں سے اندر آ گیا اور ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا۔ جلد ہی ٹی وی پر افسوسناک خبر آ گئی کہ دھماکہ ہذا میریٹ میں ہوا ہے ۔ اس ہوٹل کے ساتھ میری خوبصورت یادیں وابستہ ہیں ۔ دھماکے کی شدت اور تباہی نے میرا دل ایسے توڑ دیا جیسے میں نے آئین توڑا تھا۔ غم غلط کرنے کے لیے میں نے پانی کا رنگ تبدیل کر کے چند گھونٹ بھرے تو میرا رنگ بھی تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ مجھے غصہ آنے لگا کہ کیوں نہ مجھے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ نے کی مہلت دی گئی ؟ اگر مجھے اپنا مشن مکمل کرنے دیا جاتا تو آج دہشت گردوں کا قلع قمع ہو چکا ہوتا۔ ٹینشن دور کرنے کے لیے میں نے اٹھ کرسی ڈی پلیئر کا بٹن دبا دیا ؂
محمد رفیع کی درد بھری آواز دکھی دلوں کے تار چھیڑ رہی تھی ۔ میں بے خود ی کے عالم میں ان کے ساتھ ساتھ گنگنانے لگا ؂
موسیقی کا شغل ہمیشہ سننے کی حد تک محدود رہا لیکن زندگی میں پہلی دفعہ فرصت کے دن میسر آئے ہیں تو مجھ پر منکشف ہوا ہے کہ میں تو اچھا خاصا گابھی سکتا ہوں ۔ یہ راز پچھلے ہفتے اس وقت آشکار ہوا، جب میں رات گئے نائب گاؤن کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور ٹی وی لاؤنج میں ٹہلتے ہوئے کچھ سوچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مکیش کی پر سوز آواز اپنا جادو جگا رہی تھی ؂
دیوانوں سے یہ مت پوچھو، دیوانوں پہ کیا گزری ہے
اچانک میرے دل میں نجانے کیا سمائی کہ میں نے رک کر اس گیت کے ساتھ کمانڈو ایکشن شروع کر دیا۔ مکیش کے ساتھ ساتھ میر ی آوا ز ہال میں گونجنے لگی ؂
مالک نے بنایا انسان کو ، انسان محبت کر بیٹھا
اچانک میرا ملازم گھبرایا ہوا لاؤنج میں داخل ہو ا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا ’’ صاحب ! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟ ‘‘ میں نے چونک کر اسے دیکھا تو وہ کھسیانہ ہو کر میز پر سے ’ گلاس وغیرہ وغیرہ‘سمیٹنے لگا ۔ میں نے آگے بڑھ کر ٹیپ بند کر دی تو وہ بولا ’’ سر ! آ پ کی آواز تو مکیش سے بھی زیادہ خوبصورت اورمسحو رکن ہے ۔ میں تو سن کر حیران پریشان رہ گیا ‘‘ اب میں اس کی گھبراہٹ کی وجہ سمجھ چکا تھا۔ مجھے اس کی بات بڑی اچھی لگی اور میں اس کے کمنٹس پر غور کرتا ہوا بیڈ روم کی طرف چل دیا ۔ ۔ ۔ اسکے بعد تو جب بھی میں نے مکیش کی آواز میں آواز ملائی ، مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ میری اور انکی آواز میں کمال کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ خصوصاً شام کے بعد تو ’’ آوازیں جو آوازوں میں ملتی ہیں ‘‘توماحول پر عجیب سا سحر طاری ہو جاتا ہے ۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ میرے گلے میں سُر اور لے رفیع اور مکیش سے کہیں زیادہ ہے ۔ ایسے میں اکثر مجھے ڈاکٹر شیر افگن کی یاد آتی ہے ۔ وہ میری آواز کی بہت تعریف کرتے تھے ۔ کئی دفعہ انہوں نے مجھ سے دبے دبے لفظوں میں گانے کی فرمائش بھی کی لیکن میں نے ان کی اس بات کو در خور اعتناء نہ سمجھا ۔ ڈاکٹر صاحب کی عقابی نظروں، دور اندیشی ، بندہ شناسی اور آئین شناسی پر اب میرا ایمان مزید پختہ ہو گیا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے دکھ بھی ہے کہ مادی دنیا کے جھمیلوں میں میری یہ صلاحیت اب تک دبی رہی ۔
اب میں نے موسیقی کے فیلڈ میں بھی یوٹرن لے لیا ہے ، یعنی میں نے گیت سننے سے زیادہ گانے پر اپنی توجہ مرکوز کر لی ہے ۔ وقت گزارنے کے لیے سوچنے کے علاوہ ایک اور مشغلہ میرے ہاتھ لگ چکا ہے۔ لیکن میرا فنی سفر شروع ہوتے ہی ایک مسئلہ بھی کھڑا ہو گیا ہے ، او روہ یہ کہ میری اس خدا داد صلاحیت کے طشت ازبا م ہوتے بیگم صاحبہ جیلس ہو گئی ہیں۔ وہ اکثر مجھ سے سوال کرتی ہیں ’’ کیا آپ کو گانا آتا ہے ؟ ‘‘ہمارا آپس میں اختلاف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ میرا گانا سننے کے بعد یہ سوال کرتی ہے ۔ اب انکو کون سمجھائے کہ رونا اور گانا کسے نہیں آتا ؟جب دل پر چوٹ لگتی ہے تو رونے کا سلیقہ بھی آجاتا ہے اور گانے کا قرینہ بھی ۔ ۔ ۔ لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ۔ جب بھی میں گانا ختم کر کے ان کی طرف داد طلب نظروں سے دیکھتا ہوں تو وہ دلفریب اور شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ پوچھتی ہیں ۔ ۔ ۔ ’’ کیا آپ کو گانا آتا ہے ؟ ۔ ۔ ۔ ‘‘

Leave a Reply