غربت کا سیارہ! (انجم نیاز)


پیر ستمبر 22, 2008

پاکستان کے دوست ملکوں کو جن کے ساتھ ہمارے دفاعی ، اقتصادی اور نظریاتی مفادات وابستہ ہیں موبائل فون کے ذریعے پیغامات بھیجے گئے ہیں کہ خدارا ہمیں غربت کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیجئے۔ ہماری فریاد کا ابھی تک کسی ملک نے کوئی نوٹس نہیں لیا ۔ صدر آصف علی زرداری کی دیوالیہ حکومت کو بچانے کیلئے جن ملکوں سے کچھ مدد کی توقع کی جا رہی ہے ان میں سب سے پہلے امریکہ، پھر امریکہ اور سعودی عرب یا شاید چین بھی شامل ہے۔ جب تک ہمیں کوئی ٹھوس جواب نہیں ملتا ،آیئے اس کرہ ارض پر پھیلی ہوئی غربت پر غور کریں۔
آہ یہ غریب جو ہمارے دل کی دھڑکن سے دور نہیں ہیں چوبیس جولائی کو ہمارے لیڈر اور ٹی وی چینلز ان کے نام کا ورد کر رہے تھے۔ ان کی خبریں جو ہمیشہ بری خبریں ہوتی ہیں صفحہ اول پر چھپتی ہیں۔ ہم میں بیشتر ان سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہتے یہ لوگ ایک ڈراؤنا خواب ہیں۔ ہمارا خواب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس کرہ ارض سے نکال دیا جائے تاکہ انہیں جہاں جانا ہے جائیں اور ہم یہاں آرام سکون سے رہ سکیں۔ لیکن خواب کب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں؟
پوری گھریلو صنعت جس کا تعلق غربت سے ہے ایوب خان کے دس سالہ ترقی کے سنہرے دور میں پھلی پھولی ۔بہتی گنگا میں بہت سے لوگوں نے ہاتھ دھوئے، دو ایک کو نوبل انعام بھی ملے جبکہ بعض لوگوں نے غربت مکاؤ تنظیمیں بنا کر عالمی بینک سے فائدے اٹھائے ۔بہت سوں نے نفع بخش این جی اوز قائم کیں۔ جلا وطن واپس آکر وزیراعظم بنے ۔ ماہرین معیشت نے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگریاں حاصل کیں اور امریکہ اور مغربی ملکوں کے تعلیمی اداروں میں لیکچر دینے لگے ۔ کثیر الملکی اور دو طرفہ امداد جیسی پرکشش اصطلاحات گھڑ کر انہوں نے غربت کے خاتمے کے نام پر دنیا بھر سے دولت سمیٹی ۔
اب ہمیں پتا چلا ہے کہ ہمارے نئے حکمران بھی شوکت عزیز کا منتر غریبوں پر پھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غربت میں کمی کے منصوبے جن میں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پیپلز ورکس پروگرام بھی شامل ہیں، کثیر الملکی اور دو طرفہ امداد دینے والے ملکوں کو پیش کر کے ان سے اربوں روپے بٹورے جائیں گے جو ہمیں ادھار دینے کیلئے بے چین ہیں۔ غریبوں کو دنیا بھر کے راحت اور آسائش کے سامان میسر آئیں گے لیکن اس سے پہلے کہ ہم غربت سے نجات کا جشن منائیں مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں۔
جب عید نزدیک آتی ہے تو غریب عوام یکا یک زندہ ہو جاتے ہیں۔ اس وقت ان لوگوں کی موجودگی ہمارے الیکٹرانک میڈیا اور دیگر اخبارات و جرائد بھی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ہمارے ذہنوں میںغربت کے معنی کھلنے لگتے ہیں۔ غربت کے سیارے سے جوق در جوق غریبوں کا نزول ہونے لگتا ہے۔
ہر عید پر روحانی، مادی اور مردم شماری کے حوالے سے ہمارا ماحول بدل جاتا ہے۔ہمارا ضمیر جاگ اٹھتا ہے، ہمارے ایمان کی آزمائش شروع ہو جاتی ہے۔ ہماری آنکھوں سے پٹیاں اترجاتی ہیں اور ہمیں گوشت پوشت سے بنے ہوئے غریب نظر آنے لگتے ہیں۔ انسانوں کی یہ مقہور اورمعتوب فوج جس بدترین اور اذیت ناک حالت میں ہمارے سامنے مارچ کرتی ہے اس کی اس سے زیادہ بری حالت نہیں ہو سکتی۔ ہمارے منہ سے اکثر یہ الفاظ بے ساختہ نکلتے ہیں ہٹو ، مجھے ہاتھ مت لگاؤ، یہاں سے جاؤ ، معاف کرو۔ بھکاریوں کو جھڑکنے اور خود سے دور رکھنے کا کوئی اور بھی طریقہ ہماری سمجھ میں آئے تو اس کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ اجڑے بالوں ،شکستہ چہروں ، ننگے پیروں اور بدبو دار چیتھڑوں والے یہ وہ لوگ ہیں جن کی باتیں کرتے ہمارے حکمرانوں کی زبانیں نہیں تھکتیں اور جو ہر وقت ہماری عید شاپنگ کو بدمزہ کرنے پر تلے نظر آتے ہیں۔ ایک طرف دکانوں کی چکا چوند روشنیاں اور ان میں رکھی ہوئی انواع و اقسام کی اشیاء ہماری توجہ کھینچتی ہیں اور دوسری جانب فٹ پاتھوں پر رینگنے والے فقیر ہمارا راستہ روکتے ہیں۔ یہ بھکاری چھوٹے چھوٹے بھوتوں کی طرح اپنے پنجے ہماری طرف بڑھاتے ہیں تاکہ ہم سے خیرات وصول کر سکیں۔ اس وقت انسان خود کو عجب بے بسی کے عالم میں محسوس کرتا ہے جب وہ لباس سے میچ کرنے والا قیمتی جوتا خریدنا چاہے اور دوسری طرف کوئی بھکاری ہاتھ باندھ کر کھڑا شاپنگ کا سارا مزہ کرکرا کر رہا ہو۔
فاسٹ فوڈ ریستوران جگہ جگہ کھلے ہیں۔ ان کے ماحول کا منظر، خوشبوئیں اور سروس آپ کا دامن پکڑ لیتی ہے۔ آپ خواہش کرنے لگتے ہیں کہ یہاںکچھ دیر بیٹھ کر شاہی طعام سے خو د کو شاد کام کریں لیکن اس وقت بھی یہ نادار بھکاری آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتے اور اللہ کے نام پر آپ سے مانگ رہے ہوتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں ،میں کیا کروں ؟ جیب میں جو پائی پیسہ ہے غریبوں کے اس ہجوم کو بانٹ کر خود خالی پیٹ گھر چلا جاؤں اور دوبارہ یہاں قدم نہ رکھنے کی قسم کھا لوں!
عید کی خوشیوں سے لطف اٹھانا اتنا آسان نہیں۔ ہم اکثر اخبارات میں ان عشوہ طراز عورتوں کی تصاویر دیکھتے ہیں جو بھاری میک اپ اور زیورات سے لدی پھندی متاثرہ لوگوں میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک تصویر میںہماری خاتون سپیکر بھی ریشمی لباس میں اپنی جیسی چند دیگر خواتین کے جلو میں ایک برقع پوش عورت کو گلے سے لگاتی نظر آئیں جو پشاور میں طالبان سے بھاگ کر آئی تھی۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نہ کوئی اداکاری کر رہی تھیں اور نہ ان کا تصویر بنوانے کا کوئی ارادہ تھا لیکن ان کے ہمراہ سرخ و سفید خاتون کی آن بان دیکھ کر جو ہاتھوں میں چیک تھامے ہوئے تھی، پتا چلتا تھا کہ امیر اور غریب میں کیا فرق ہوتا ہے ۔
ہمارے ٹی وی پروگراموں میں ایسے بے شمار شو دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں غربت اور غریبوں کی حالت کا لرزہ خیز نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ ان چینلز کی عمارتوں کے باہر غریبوں کی ٹولیاں گشت کرتی نظر آتی ہیں جنہیں دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ۔وہ مدد کیلئے تصور میں حکمرانوںاور ان کے رفقاء کو دیکھتے ہیں جن کا عقیدہ یہ ہے کہ’’ اول خویش بعد درویش‘‘ لہٰذا وہ سوچتے ہیں کہ حکومت گرنے سے پہلے جتنی دولت اکٹھی کی جا سکتی ہے اس میں دیر نہ کی جائے۔ غریب جائیں جہنم میں!
اب غریبوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں رہا وہ بھی کتے بلیوں کی طرح خوراک کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہمارے ٹی وی چینلز کے اینکر اپنے خول سے باہر نکل کر دیکھیں کہ غربت کیا ہوتی ہے؟ اگر ہمارے میڈیا کے لوگ اور ان کے مالکان خود غریبوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے تو کم سے کم عام شہریوں کی راہنمائی تو کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی غربت کیسے ختم کریں! کم سے کم ان سے غربت کے متعلق صحیح اورقابل اعتماد معلومات تو مل سکتی ہیں جس کا خاتمہ جمہوریت کا ایک تقاضا ہے اور جس کی یہ بڑی وکالت کرتے ہیں۔ آخر میں میں صرف اتنا ہی کہوں گی کہ آپ سب کو عید شاپنگ مبارک۔

Source: Daily Jinnah, 22/9/2008

Leave a Reply