Thank You America-By Mustansir Hussain Tarar


’’تھینک یو امریکہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے ہی۔ ۔ ۔ ‘‘

منگل ستمبر 16, 2008

ایک زمانہ تھا کہ ہم ستمبر کے مہینے میں جنگیں لڑا کرتے تھے اور جیتا کرتے تھے۔ اپنی عزت نفس کی حفاظت کرتے تھے اور ایک یہ ستمبر ہے کہ غیر ملکی فوجیں نہایت اطمینان سے ہماری سرحدوں کے اندر داخل ہوتی ہیں کارروائی کرتی ہیں، اپنے تئیں دہشت پسند ہلاک کرتی ہیں اور مزے سے ہیلی کاپٹروں پر بیٹھ کر واپس چلی جاتی ہیں اور ہم پرزور احتجاج کرتے ہیں، اپنی سرحدوں کی حفاظت کی قسم کھاتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ یہ خبر سن کر مجھے بے حد افسوس ہوا ہے ہم امریکہ سے پوچھیں گے کہ آخر آپ نے ایسی حرکت کیوں کی۔ اگر کرنی ہی تھی تو پوچھ لیتے ہم نے کونسا انکار کرنا تھا لیکن یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستان کی سرحدیں ہیں کونسی!۔ ۔ ۔ کیا یہ سرحدیں سوات میں مالاکنڈ سے پر شروع ہو جاتی ہیں یا کوہاٹ کے آس پاس ہیں؟ تین ستمبر کو امریکی سپیشل فورس کے دستے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پاکستان کے اندر لینڈ کرتے ہیں اور کارروائی کر کے چلے جاتے ہیں پانچ ستمبر کو امریکہ کے ریموٹ کنٹرول والے جہاز سے میزائل فائر ہوتے ہیں۔ پھر آٹھ ستمبر اور بارہ ستمبر کو بھی پاکستانی حدود میں پرواز کرتے امریکی پائلٹ کے بغیر جہازوں پر سے وزیرستان میں میزائل برسائے جاتے ہیں اور متعدد ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ ویسے ہمارے دفاع کے ذمہ دار افراد اس سے پیشتر یہ وضاحت پیش کر چکے ہیں کہ اگر ہماری فضائی حدود میں تیس ہزار فٹ سے زائد بلندی پر کوئی طیارہ پرواز کر رہا ہے تو ہم اس کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے پاس کوئی ایسا دفاعی نظام نہیں ہے جو اس طیارے کو روک سکے یا تباہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کردیا جاتا ہے کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے ہم ہر قیمت پر اپنی سرحدوں کی حفاظت کریں گے یعنی اگر ایک طیارہ ایٹم بموں سے لیس تیس ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتے پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اگر اس طیارے میں کوئی پائلٹ ہوتا تو بھی ہم اس کی منت سماجت کر لیتے کہ پائلٹ بھائی جان پلیز ہم پر ایٹم بم نہ گرانا، ہمارے پاس آپ کو روکنے کا کوئی نظام نہیں، اگر چہ ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔ اب چونکہ یہ طیارے جو اکثر پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں ان میں پائلٹ نہیں ہوتا تو آپ ہی انصاف کیجئے کہ ہم کس کی منت سماجت کریں طیارے کی تو کر نہیں سکتے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ کونسی رپورٹ کے بارے میں بات کر رہے ہیں (یعنی امریکی فوج کی پاکستان میں دراندازی کی) لیکن یہ کہانی ایسی ہے جس کے بارے میں ہم کوئی کومنٹ نہیں کریں گے اور ہم اس پر بھی کوئی بات نہیں کریں گے کہ ہم دشمن سے لڑنے کے لئے کن اصولوں کی پابندی کریں گے یعنی ہم نے جو کچھ کیا ہے یہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے ادھر پینٹاگان کے کچھ افسروں نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر فوکس نیوز، بی بی سی اور سی این این سے انٹرویو کے دوران یہ تسلیم کیا ہے کہ صدر بش نے ذاتی طور پر پاکستان کے اندر جا کر حملہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ اگر ہمارے کچھ دفاعی افسران بھی عوام کے سامنے تسلیم کر لیں کہ انہوں نے بھی اس حملے کی منظوری دی تھی۔
اس میں کچھ مضائقہ نہ ہوگا۔ ۔ ۔ کیونکہ اس حملے کے دفاع میں بھی بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ ۔ ۔ اگر طالبان کی جانب سے بار بار یہ تسلیم کیا جارہا ہے کہ ہاں ہمارے ٹریننگ کیمپ ہیں اور پاکستان کے اندر ہیں جہاں سے ٹریننگ لینے والوں کو ہم افغانستان امریکیوں سے لڑنے کے لئے بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے تو ظاہر ہے امریکیوں نے کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا اور جو کچھ انہوں نے کیا ہماری رضا سے کیا۔ انہوں نے پوچھ لیا تھا کہ بتا تیری رضا کیا ہے اور ہم نے کہا تھا کہ جو مالک کی مرضی۔ ۔ ۔ لیکن عوام کی تسلی کے لئے انہیں یہ گولی دینا بھی ضروری تھی کہ ہرگز نہیں ہم امریکیوں کو اپنی سرحدوں کے اندر آنے کی اجازت ہر گز نہیں دیں گے۔ یہ الگ بات کہ ہم نے انہیں اجازت تو نہیں دی پر وہ بلااجازت ہی چلے آئے اب وہ ہمارے مہمان تھے تو انہیں کیسے نکال باہر کرتے وہ بے چارے خود ہی چلے گئے۔ اب دوبارہ انہیں اندر آنے کی اجازت ہرگز نہ دینگے اس صورتحال پر ایک سیانے مبصر نے نہایت دلچسپ اور قابل عمل تجویز پیش کی ہے ان کا کہنا ہے کہ وزیرستان ہم سے تو سنبھل نہیں رہا اور وہاں ہمارا جانی نقصان بھی معمولی نہیں ہو رہا تو کیوں نہ امریکی فوج سے درخواست کی جائے کہ بھئی آپ چلے آئیں اور سنبھال لیجئے اس سے بہت سے فائدے ہونگے ایک تو امریکہ بے حد خوش ہوگا دوسرا یہ کہ ہمارا جانی نقصان نہیں ہو گا امریکیوں کا ہو گا اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ عسکریت پسند عناصرکا جہاد کا خواب پورا ہو جائے گا۔ سامنے اپنے پاکستانی مسلمان بھائیوں کی جگہ امریکی کفار ہونگے تو یہ نہیں ہو گا کہ کونسا مرنے والا شہید ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس مسئلے کا نہایت ہی مستحسن حل ہے اس پر پوری سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اگر ہم اپنے صدر کی حلف برداری پر کابل کے میئر کرزئی کومدعو کر کے سر آنکھوں پر بٹھا سکتے ہیں تو امریکی فوج کو بھی مدعو کر سکتے ہیں۔
ہمارے ایک نوجوان ڈاکٹر دوست ہیں جو اپنے آپ کو دندان ساز کہتے ہیں کیونکہ دانتوں کے ڈاکٹر ہیں نہایت لطیف حسں مزاح کے مالک ہیں مریضوں کو مسلسل لطیفے سناتے ہیں تاکہ وہ ہنستے رہیں اور وہ ان کے کھلے منہ میں اوزار داخل کر کے جو جی میں آئے کرتے رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کبھی ایک طاقتور اور ایک کمزور شخص کے مابین ہاتھا پائی ہوتی ہے تو ظاہر ہے بے چارا کمزور خوب مار کھاتا ہے لیکن لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں وہ طاقتور شخص کی دھمکیوں اورگالیوں کے جواب میں کچھ نہ کچھ بڑبڑاتا رہتا ہے۔
مثلاً طاقتور شخص کہتا ہے ’’اوئے میں مار مار کر تمہارا بھرکس نکال دوں گا۔‘‘
تو کمزور بڑبڑاتا ہے ’’ایسے ہی بھرکس نکال دوں گا۔‘‘
’’میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
’’ایسے ہی زندہ نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
’’ایک اور گھونسا ماروں۔‘‘
’’ایسے ہی ایک اور گھونسا ماروں۔‘‘
بس ایسے ہی امریکہ کہتا ہے ’’اوئے میں دوبارہ بھی تمہاری سرحد کے اندر آؤں گا’’ اور ہم بڑبڑاتے ہیں ’’ایسے ہی تمہاری سرحد کے اندر آؤں گا۔‘‘

Source: Daily Jinnah

Leave a Reply