London Diary- by Irfan Hussain 9/11کے بچونگڑے


 

برطانیہ میں دہشت گردی کے الزام میں ایک اور دہشت گرد گروہ پر مقدمہ چلا اور اسے سزا سنائی گئی ۔دہشت گردی کے ایک اور تربیتی کیمپ کا تعلق پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔اس دفعہ ایک طویل عدالتی کارروائی کے بعد 8ملزمان کو دوسال قبل بحرِ اوقیانوس پر 7ائیر لائینوں کو بم دھماکہ سے اڑانے کی کوشش کرنے کا ملزم قرار دیا گیا ۔تین کے خلاف دہشت گردی کا الزام سچ ثابت ہوا ،جبکہ پانچ کے خلاف ثبوت مہیا نہ ہو سکے ۔تفتیش کنندگان دوبارہ عدالتی کارروائی کا سوچ رہے ہیں۔تمام قیدی پاکستانی الاصل تھے، لیکن گرفتار ہونے سے قبل کئی مرتبہ پاکستان آچکے تھے ۔عدالتی کارروائی کے دوران اخبارات

 اور ٹی وی چینلز نے ان کے اپنے اصلی وطن واپس آنے کو خوب اچھالا ۔بی بی سی کے نیوز پروگرام ’’نیوز نائٹ ‘‘میں ایک سیکیوریٹی ایکسپرٹ کو اس حقیقت پر تبصرہ کرنے کے لئے کہا گیا ۔ان کی تحقیق کیمطابق ’’لگتا ہے کہ دہشت گردی کے یہ تمام منصوبے پاکستان میں بنائے گئے ہیں ۔‘‘
او ر جب لندن کے مشرق کے نواح میںرہنے والے اس گروپ سے انٹرویو لیا گیا انہوں نے شبہ کا اظہار کیاکہ اس منصوبے کے منظرِ عام پر آنے کے بعدان کو شاملِ تفتیش کیا گیا تھا۔جبکہ مدعا علیہان اس بات پربضد تھے کہ یہ پبلک مقامات پر بم دھماکہ کرنا چاہتے تھے ،جس کا مقصد یہ تآثر دیناتھا کہ مسلمانو ں کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہاہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے قبضے سے ایسی وڈیو ملی تھیں جن میں تباہی کا ریکارڈ موجود تھا ،اس سے ان کا دفاع کمزور ہو جاتا ہے ۔اس گروہ کے سرغنہ احمدعلی کو ٹی وی سکرین پر شعلہ بیانی کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ،
’’شیخ اسامہ تمہیں کئی مرتبہ متنبہ کر چکے ہیںکہ ہماری سر زمیں سے نکل جاؤ، نہیں تو تمہیں تباہ کردیا جائیگا،ہم بدلہ ضرور لینگے اورجو لوگ ہمارے خلاف جنگوں اور جارحانہ کارروائیوں کے ذمہ دار ہیں انکے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے جائیں گے۔
خوش قسمتی سے وہ جس عزم کا اظہار کر رہے ہیں ان کی فنی مہارت ان کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ان مشکوک افراد میں سے ایک جب پاکستان سے آیا تو ہیتھرو کے ہوائی اڈے پر اس کے سامان کی خفیہ طور پر تلاشی لی گئی ۔اس میں سے خاصی تعداد میں بیٹریاں اور پلاسٹک کے ڈبے موجودتھے ۔اس پر ایم15کے انٹیلی جنس کے افسروںکو شک گزرا ،انہوں نے مشتبہ شخص کا پیچھا کیا اور اس کے فلیٹ کو نشان زد کر دیا ۔برطانیہ میں خفیہ آپریشن بڑھتے جا رہے ہیں،لیکن یہ آپریشن سب سے بڑا آپریشن تھا، کیونکہ جب اس گروہ کے ارکان کا پیچھا کیا گیا تومعلوم ہوا کہ انکی رہائش گاہ بم فیکٹری بنی ہوئی تھی ۔
ہر دوسرے مہینے برطانیہ میں دہشت گردی کے کسی نہ کسی منصوبے کا انکشاف ہوتا ہے اور منصوبہ ساز عام طور پر وہ مسلمان ہوتے ہیں، جن کا تعلق پاکستان سے ہوتا ہے ۔یہ بات قابلِ فہم ہے کے اس صورتِ حال میں مسلمانوں پر نگاہ رکھناانٹیلی جنس کی ذمہ دار ی بن جاتی ہے ۔بعدمیں یہ کہاجاتاہے کہ مسلمانوںکے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ۔لیکن ایسے حالات میں ایک حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے اس کے علاوہ اور کیا کر سکتی ہے ؟ان حالات میں برطانوی حکومت بہترین کوشش کر رہی ہے ۔ صاف بات ہے پاکستان کو ایسے تربیتی کیمپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا چاہئے،جو پاکستان کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری سیکیوریٹی سروس تفتیش کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے ۔ایک مشکوک پاکستانی جو اوقیانوس ائیر لائن کے منصوبے میں شامل تھا ،برطانوی انٹیلی جنس کی اطلاع پر پاکستان میں پکڑا گیا ۔لیکن جس وقت راولپنڈی میں اس پر مقدمہ چلایا جا رہاتھا، اس وقت برطانیہ نے مطالبہ کیا کہ اسکو برطانیہ کے حوالے کردیا جائے ،لیکن اس تجویز کونظر انداز کر دیا گیا ۔ اسی دوران وہ پولیس کو چکمہ دیکر نو دو گیارہ ہو گیا۔ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ وہ ہماری خفیہ ایجنسیوں میں سے کسی ایک کے پاس موجود ہے۔ مغرب میں اب یہ شبہ بہت زیادہ پھیل گیا ہے کہ پاکستان اپنے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دلی طورپرکوشش نہیں کر رہا اور یہ ساری دنیاکے دہشت گردوں کے لئے جائے حفاظت بنا ہواہے ۔ لوگ یہاں سے دہشت گردی کے منصوبوں کی تربیت حاصل کرتے ہیںاور پھر قتل و غارت کے لئے غیر ممالک کارخ کرتے ہیں۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ قبائلی علاقہ پر طالبان کو آزادانہ قبضے کی اجازت دید ی گئی ہے تو یہ مفروضہ سچ نظر آتا ہے ۔اس محفوظ ٹھکانے سے وہ افغانستان میں موجود مغربی افواج کونشانہ بناتے ہیں ۔جیسے جیسے امریکی اور نیٹو کی افواج کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوتاجاتا ہے ویسے ویسے مغربی ملکوں کی عوام کی طرف سے انکی حکومتوں پردہشت گردی کے حملوں کو روکنے کے لئے دباؤ بڑھتا جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے پاکستان کی سر زمین پرجو حملہ کیاہے وہ اس مقصد کے حصول کے لئے پہلا حملہ ہے، لیکن مجھے شک ہے کہ یہ آخری ثابت نہیں ہو گا ۔ بدقسمتی سے پاکستانیو ں کی اکثریت اس صورتِ حال کی سنگینی کو سمجھنے کے لئے تیارہی نہیں۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ افغانستان اوردوسرے ممالک میں جوہلاکتیں ہو رہی ہیںاس کا سبب یہ ہے کہ ہم قبائلی علاقوں میں دہشت گردی پر قابو نہیں پاسکے اور نہ ہی اپنے بارڈر سیل کر سکے ہیں ۔غیر ممالک کو یہی تاثر دیا جارہا ہے کہ پاک افغان سرحدکے طبعی خدوخا ل کے پیشِ نظر ایسا کرنا ممکن نہیںہے۔لیکن سوال پیداہوتا ہے کہ اگر ہم اپنی سرحدوں پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتے تو اپنی بالادستی کادعوی کیسے کرسکتے ہیں۔ اسی دوران مسلمان عام طورپر اور پاکستانی خاص طورپر غیرممالک میں بد نا م ہو رہے ہیں ۔برطانیہ میں مٹھی بھر لوگوں کی مذموم کارروائیوں کی بدولت ہزاروں پر امن اور محنتی شہریوں کا جینا اس لئے دوبھر ہو رہا ہے کہ وہ پاکستانی ہیں ۔ناپختہ ذہنوں کے مالک یہ الگ تھلگ لوگ ،دہشت گردی کے ذریعے معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار کر اس بات پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ اخبارات کی شہ سرخیوں میں چھپ رہے ہیں ۔اگر وہ کسی ایک ایئر لائن کو منصوبے کے مطابق گرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو برطانیہ میں مسلم طبقے پر سختیاں بڑھ جاتی ہیں ۔یہ دہشت گرد شہادت کو اپنے بہیمانہ عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ ایم 15کے سابق سربراہ کے مطابق برطانیہ میں خفیہ ایجنسیاں مشکوک افرادکا پیچھاکر رہی ہیں ۔جب بھی کسی دہشت گردی کی سازش کا ثبوت ملتا تومسلمانوں کو منظرِ عام پرلایاجاتا ہے ۔9/11کے بچونگڑے اپنی ہی برادری کے ساتھ ظالمانہ رویہ رکھے ہوئے ہیں ۔یقینی بات ہے کہ دنیا میں مسلم برادری کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔ سات ستمبرکو اس منحوس واقعہ کی برسی تھی، جب القائدہ نے امریکہ پر حملہ کیاتھا ۔اس کے بعد میڈرڈسے لندن اور لندن سے بالی تک مخالفتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے ۔ہر حملے کے بعدسیکیوریٹی انتظامات سخت کردئے جاتے ہیں اور قاتلوں کیخلاف غم و غصہ کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ وہ لوگ جو انتہا پسندی کے گروہ میں براہِ راست شامل ہیں انکے پاس کوئی جواز نہیں ہے ،لیکن جو لوگ اندر خانے انکی حمائت کر رہے ہیں ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انکی ظالمانہ کارروائیوں سے ان کے مخالفین کی بجائے مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے

Source: Daily Jinnah, 16/9/2008

Leave a Reply