’’بی بی کا مصاحب!‘‘انجم نیاز کاکالم

صحافی شیام بھاٹیہ کے اس دعویٰ پر بڑی لے د ے ہو رہی ہے کہ وہ بے نظیر کے محرم راز اور مصاحب رہے ہیں ۔بی بی کے معاملے میں یہ امتیاز اور اعزاز صرف ان لوگوں کو حاصل ہے جو آکسفورڈ کے زمانے میں ان کے دوست تھے۔ میں نے بھاٹیہ کے دعوے کے بارے میں لندن میں بی بی کی ایک سہیلی اور جا نشین وکٹوریہ شوفیلڈ سے رابطہ کیا جو 1977ء میں بے نظیر کے بعد آکسفورڈ یونین کی صدر بنیں ۔ان کی دوستی 33برس کے عرصے پر پھیلی ہوئی ہے ۔بی بی جب آکسفورڈ میں تھی تو مجھے نہیں یاد پڑتا کہ شیام سے کبھی اس کی ملاقات ہوئی یا بے نظیر نے اس کا قریبی دوست کے طور پر کبھی نام لیا۔
شیام بھاٹیہ نے اپنی کتاب’’گڈ بائی شہزادی‘‘ کے ڈرامائی آغاز میں بے نظیر اور اپنے تجسس آمیز تعلقات کے بارے میں قارئین کو دم بخود کرنے کی کوشش کی۔بھاٹیہ لکھتا ہے کہ بی بی سے میری مصاحبت تیس برس رہی اور اس عرصہ میں ان کے دیگر بے تکلف دوستوں کی طرح میں بھی اسے حسب موقع شہزادی، پنکی، وزیراعظم، محترمہ ،بی بی،مس صاحبہ کہہ کر پکارا کرتا تھا۔ اگرچہ ہماری دوستی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی لیکن زیادہ تر حالات میں ہم ایک دوسرے سے باقاعدہ رابطے میں رہتے۔بی بی اپنے بہت سے اہم ر ازوں سے مجھے وقتاً فوقتاً آگاہ کرتی رہتی۔
بشیر ریاض جو بی بی اور اپنے دیگر جاننے والوں میں ’’ بیش‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں بھاٹیہ کی جسارتوں پر بڑے بر افروختہ ہیں ۔بشیر کا کہنا ہے کہ بھاٹیہ کون ہوتا ہے جو بی بی کو شہزادی یا پنکی کہہ کر بلائے؟بی بی نے اسے اتنا بے تکلف ہونے کی اجازت کبھی نہ دی تھی جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے!حقیقت یہ ہے کہ بھاٹیہ میری منتیں کیا کرتا تھا کہ میں اس کی بی بی سے ملاقات کرا دوں ۔وہ مجھے روزانہ کئی بار فون کرتا۔ اگر وہ بی بی کے اتنا ہی قریب تھا توبی بی سے ملاقات کیلئے مجھ سے کیوں کہا کرتا تھا؟
بہت سے لوگ حیران ہوں کہ بے نظیر نے اپنے دل کے بھید بتانے کیلئے ایک بھارتی صحافی کا انتخاب کیوں کیا؟وہ اس قسم کی انتہائی خفیہ باتیں کسی پاکستانی سے بھی کر سکتی تھیں ۔سرکاری راز ایک دشمن ملک کے شخص کو بتانا کہاں کی عقلمندی ہے؟شیام بھاٹیہ واحد صحافی ہے جو اس بات کا مدعی ہے کہ بی بی نے اس کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔بشیر ریاض جو تیس سال اپنی لیڈر کا پر جوش حامی رہا ،بھاٹیہ کی کتاب کو جھوٹ کی پٹاری قرار دیتا ہے۔بشیر کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ بی بی اسے کہا کرتی تھی کہ بھاٹیہ انتہائی خطرناک شخص ہے اور ہم سب کو اس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
وکٹوریہ شو فیلڈ نے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی صحافی ہونے کے ناطے بے نظیر بھاٹیہ سے بے زار تھیں ۔تاہم بے نظیر کے قریب اگر واقعی کوئی بھارتی صحافی تھا تو صرف کرن تھاپر تھا۔
بشیر کے بقول بھاٹیہ نے ’’گڈبائی شہزادی‘‘ میں جس آخری انٹرویو کا ذکر کیا ہے اس کے واقعات میں بھی غلط بیانی سے کام لیا۔بھاٹیہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ پاکستان پہنچ کر بی بی اسے اکثر لندن فون کیا کرتی تھی کہ اسے انٹرویو کیلئے سوالات بھیجے۔ بشیر کے مطابق یہ سفید جھوٹ ہے ۔اصل حقیقت یہ ہے کہ بھاٹیہ کے تحریری سوالوں کا جواب فرحت اللہ بابر روٹین میں لکھ کر دیتے تھے جنہیں بی بی کو دکھانے کے بعد میں بھاٹیہ کو روانہ کرتا تھا۔میں نہیں جانتا کہ بھاٹیہ اس واقعہ کو رومانوی رنگ کیوں دے رہا ہے ؟بشیر نرم خو شخص ہے اور غصے میں کم ہی آتا ہے ۔اب اس پرانے سپاہی کو غصے سے زیادہ اداسی گھیرے رکھتی ہے۔ بی بی جب زندہ تھی توبشیر شکرے کی طرح اس پر نگاہ رکھتا۔بشیر نے مجھ سے بڑے دکھ سے کہا کہ بی بی اب اس دنیا میں نہیں ۔ اب وہ قبر سے نکل کر وضاحت دینے سے تو رہی ۔لہٰذا بھاٹیہ جیسے موقع پرست جو چاہیں اس کے بارے میں لکھیں ۔ لیکن جب تک میں موجود ہوں ریکارڈ درست کرتا رہوں گا۔
صحافی اور مورخ وکٹوریہ شوفیلڈ بھٹو کی پھانسی کے بعد کوئی سال بھر بی بی کے ہمراہ رہی ۔اس نے تحقیق اور تجزیہ پر مبنی بہت سے اہم حقائق رقم کئے۔ ’’گڈ بائی شہزادی‘‘ کو ایک پر فریب تجزیہ قرار دیتے ہوئے وکٹوریہ کا کہنا ہے کہ بھاٹیہ نے جو باتیں لکھیں ،بے نظیر ان کی تردید یا تائید کرنے کیلئے زندہ نہیں ہیں ۔ بھاٹیہ بھی ان لوگوں کے زمرے میں آتی ہے جو اپنی یاداشتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔سیاستدان ہونے کے ناطے بی بی بہت سے لوگوں ،خاص طور پر صحافیوں کو جانتی تھیں ، لیکن دوست اور صحافی ہونے میں بڑا فرق ہے ۔ کرن تھاپربی بی کے با اعتماد دوست تھے لیکن آکسفورڈ کے ان کے دوسرے دوستوں کی طرح انہوں نے کبھی حدیں نہیں پھلانگیں ۔بھاٹیہ کی بی بی سے دوستی کبھی مضبوط یا گہری نہیں رہی۔
’’ایٹمی کھیل‘‘ کے عنوان سے باب نمبر سات میں بھاٹیہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے متعلق بی بی کے حوالے سے کئی انکشاف کرتا ہے۔ بقول اس کے 2004ء میں لندن میں بی بی اور بھاٹیہ کی ملاقات ہوئی۔دونوں نے سکیورٹی کے انتہائی حساس معاملوں پر تبادلہ خیال کیا جن میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر قدیر کا بھاٹیہ کے نام ایک خط بھی شامل تھا۔بھاٹیہ کے مطابق خط کے مندرجات سننے پر بی بی نے اپنی بھنویں سکیڑیں لیکن منہ سے کچھ نہ کہا۔ تاہم ایک موقع پر انہوں نے مداخلت کی کہ ڈاکٹر قدیر ہمارے ایٹم بم کے خالق ہیں ہم دسمبر 1977ء میں ایٹمی دھماکہ کرنے کیلئے تیار تھے ۔بھاٹیہ نے یہ بھی لکھا کہ بی بی نے اس شام جو باتیں کیں پہلے کبھی نہ کی تھیں جو ان اطلاعات پر مبنی تھیں جنہیں ان کے والد بھٹو نے انہیں فراہم کی تھیں ۔بھاٹیہ کے مطابق بی بی اپنے بھید اورذاتی خیالات بہت کم دوسروں پر ظاہر کرتی تھیں جن میں ایٹمی پروگرام کا معاملہ بھی شامل ہے۔
بی بی نے جس اہم راز سے پردہ اٹھایا وہ شمالی کوریا کو قیمتی ایٹمی رازوں کے بدلے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے کیلئے ان کے ذاتی کردار کے متعلق تھا۔ بھاٹیہ کے مطابق بی بی نے یہ تفصیلات بتاتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ وہ ٹیپ ریکارڈر بند کر دیں ۔سال بعد جب میں نے بی بی سے کہا کہ وہ کوریا کے متعلق اپنی کہانی دوبارہ بتائیں تو انہوں نے انکار کر دیا اور گفتگو کا موضوع بدل دیا۔ کتاب کے صفحہ نمبر 39پر بھاٹیہ نے لکھا کہ بی بی کا یہ دعویٰ تھا کہ میں میزائل پروگرام کی ماں ہوں ۔
میں نے اسلام آباد میں بعض دوستوں سے پوچھا کہ بھاٹیہ نے بی بی کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں ، کیا اسے ایسا کرنا چاہئے تھا ؟جن لوگوں نے کتاب پڑھی وہ اس کے مندرجات سے خاصے متاثر تھے۔ سب کا جواب یہی تھا کہ بھاٹیہ کو یہ سب کچھ لکھنا چاہئے تھا بے نظیر عوامی شخصیت تھیں اور عوام کا حق ہے کہ ان کے بارے میں ہر بات جانیں ۔
بھاٹیہ نے جس انداز سے اپنی مرحومہ دوست کے اعتماد کو دھوکہ دیا، وکٹوریہ شوفیلڈ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتیں ۔تاہم وکٹوریہ کا خیال ہے کہ بھاٹیہ کی کتاب مکمل جھوٹ نہیں ۔کتاب کے مصنف نے ان واقعات کو بڑی پرکاری سے لکھا جنہیں اس نے برسوں تک اپنے سینے میں محفوظ رکھا اور بالآخر انہیں اس انداز میں پیش کیا کہ قاری یقین کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

DailyJinnah, 26/7/2008

Leave a Reply