میرے عزیز جلاوطنو:شمشاد مانگٹ کاکالم ڈی بریفنگ

حکومت اور اتحادی جماعتوں کی ایوان صدر کے ساتھ نوراکشتی اپنی جگہ پر دلچسپی کے کئی پہلو لئے ہوئے ہے لیکن صدر اور وزیراعظم کے درمیان ایک انوکھی قسم کا مقابلہ بھی دیکھا جارہا ہے چند روز پہلے صدر پرویز مشرف نے جاوید شیخ کی نئی فلم کھلے آسمان کے نیچے کے پریمئیر شو کا افتتاح کیا تو وزیراعظم نے اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران ایک اور فلم ’’رام چند پاکستانی ‘‘ کا پریمئیر شو کر ڈالا مقابلہ ایک طرف دو نجی ٹی وی چینلز کے درمیان بھی تھا اور صدر ،وزیراعظم کے مابین بھی خوب رہا ۔غیر جانبدارانہ فیصلہ کیا جائے تو وزیراعظم کی فلم’’رام چند پاکستانی کا عنوان بھی پاکستان کے حالات کے عین مطابق ہے کیونکہ اقتدار پر قابض چند افراد بظاہر رام ،رام کررہے ہیں جبکہ بغل میں چھری لئے عوام کی کھال ادھیڑ نے میں مصروف ہیں دوسری طرف صدر پرویز مشرف کی فلم’’ کھلے آسمان کے نیچے‘‘ کا عنوان پڑھنے سے بھی ایسا ہی لگتا ہے جیسے کہ اس فلم میں وہ تمام مظالم کی داستان فلمائی گئی ہے جو پچھلے آٹھ سال کے دوران خصوصی طور پر پاکستان میں کھلے آسمان کے نیچے ہوئے ہیں وزیراعظم نے اپنی برتری ثابت کرنے کیلئے قوم سے خطاب بھی دے مارا ہے ۔ اس خطاب کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کا یہ خطاب کسی ٹی وی چینل میں بالکل نئے بھرتی ہونیوالے اینکر پرسن یا رپورٹر سے کم نہیں تھا کیونکہ پی ٹی وی کی میڈیا ٹیم کے سامنے وزیراعظم کم ازکم چار بار اپنی تقریر کا متن بھول گئے چنانچہ یہ شارٹ کٹ کر کے دوبارہ فلمائے گئے بہر حال اگر وزیراعظم کو مزید دو تین خطاب کرنے کا موقع مل گیا تو ٹی وی چینلز کا تجربہ رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ رواں ہو جائیں گے وزیراعظم کے خطاب کا حساب برابر کرنے کیلئے اگر صدر پرویز مشرف توقع کے مطابق میدان میں اتر آئے تو انکے خطاب کا متوقع متن اس طرح سے ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میر ے عزیز جلا وطنو!
جیسا کہ آپ میری طبیعت سے واقف ہیں میں منافقت قطعاً نہیں کرتا۔ میں نے اس دفعہ اپنے قومی خطاب کا آغاز میرے’’ عزیز جلاوطنو‘‘ کے نام سے اس لئے کیا ہے کہ اب یہ حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ میرے اصل ’’عزیز‘‘ اب ملک سے باہر ہی ہیں شوکت عزیز نے جس تابعداری اور فرمانبرداری سے کام کیا اور اس کے بعد فوراً ملک چھوڑ کر چلے گئے تو مجھے قطعاً غصہ نہیں آیا کیونکہ وہ جس کے کہنے پر آئے تھے اسی کے پاس چلے گئے میرے بارے میں تو قوم کو سچی جھوٹی اطلاعات مل ہی رہی ہونگی کہ میں جن کے کہنے پر آیا تھا انکے پاس جانے کی بجائے کسی اور ملک میں جانے کا سوچ رہا ہوں میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا نتیجہ بہت جلد آپکے سامنے ہوگا۔
بہرحال مجھے اس وقت سب سے زیادہ عزیز موجودہ منتخب حکمران ہیں اور ان میں چھپے ہوئے سیاسی جوہر کو میں نے کئی سال پہلے پہچان لیاتھا مجھے انکی یہ ادا بہت پسند آتی ہے کہ وہ حکومت میں ہونے کے باوجود بھی’’جلا وطن‘‘ ہی رہتے ہیں اور مختصر مدت کیلئے انکے پاکستان کے دورے سے بھی مجھے اطمینان حاصل ہوتا ہے میری توقع کے عین مطابق انہوں نے صرف’’اکاؤنٹس‘‘ پر اپنی نظر رکھی ہے پہلی قسط میں انکے ذاتی اکاؤنٹ بحال ہوئے اور دوسری قسط میں انہیں دوسرے اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل ہو گئی ہے ۔
میرے عزیز جلا وطنو! حکومت کی 100دن کی کارکردگی پر میں جتنی بھی تعریف کروں کم ہے اس حوالے سے مسلم لیگ ق نے جو وائٹ پیپر شائع کیا ہے وہ بالکل درست ہے کیونکہ اس پر کچھ نہیں لکھا ہوا اور کارکردگی کا سارا ریکارڈ میرے پاس ہے اس موقع پر میں قوم کو یہ بھی بتانا پسند کروں گاکہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قاتلوں تک رسائی کیلئے پیپلز پارٹی کی حکومت اور ایوان صدر کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے ہم نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے فوری بعد ان کی موت کو ’’شہادت‘‘ قرار دیاتھا اس کے بعد کسی اور شہادت کی ضرورت ہی نہیں رہتی، لہٰذا مزید شہادتوں ‘‘ کی ضرورت نہیں تھی اس لئے جائے وقوعہ کو فوری طور پر صاف کروانے کا جس افسر نے بھی اہتمام کیا تھا میں اسکی ’’قابلیت‘‘ کی داد دیتاہوں پوری قوم جانتی ہے کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں ہے اور یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ نہ وہ میرے بندے چھیڑ رہی ہے اور نہ میں انکی’’بندہ نوازی‘‘ میں کوئی کسر چھوڑ رہا ہوں گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر کی مثال آپکے سامنے ہے جناب آصف علی زرداری کی انہی خصوصیات کے باعث میں شروع دن سے کہتا چلا آرہا تھا کہ پیپلز پارٹی بہت اچھی اور قومی جماعت ہے لیکن محترمہ بینظیربھٹو کی شہادت کے بعد جناب آصف علی زرداری نے جس طریقے سے سیاست کی ہے مجھے پوری امید ہے آپ مجھ سے متفق ہوں گے اس کے علاوہ بھی جناب آصف علی زرداری میں بے پناہ ’’خوبیاں ‘‘ ہیں جنہیں صرف میں جانتا ہوں وقت کے ساتھ ساتھ آپکو آگاہ کرتا رہوں گا۔ لیکن جلا وطنو سے کئے گئے اس خطاب میں جسے پوری قوم سن رہی ہے اگر میں جناب میاں نواز شریف اور جناب الطاف حسین کا ذکر نہ کروں تو میری اس تقریر کا کوئی فائدہ نہیں ہے لہٰذا ان دونوں صاحبان کا ذکر کر کے میں اپنی تقریر کو ’’مفید‘‘ بنانے کی کوشش کروں گاجناب میاں نواز شریف ایک رحم دل اور مشکل حالات سے خوف کھانے والے آدمی ہیں میں نے پہلے انکے رحم دل ہونے کا فائدہ اٹھایا اور چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ حاصل کیا اور بعد ازاں انہیں ایسی ایسی مشکل میں ڈالا کہ وہ خود ساختہ جلا وطنی پر مجبور ہو گئے 8سالہ مسلسل جلا وطنی کے بعد جناب میاں نواز شریف کو اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی جلا وطن رہنے کا شوق پڑ گیا ہے اور اسکا بھی فائدہ میری ذات کو پہنچا ہے جہاں تک شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب اور جناب چوہدری نثار علی خان کا معاملہ ہے تو وہ پہلے ہی میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے اور اب بھی بیک ڈور چینل کے ذریعے وہ اچھا کام کر رہے ہیں ایوان صدر عوامی توقعات کے عین مطابق پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا اتحاد ختم کرنے میں بہت جلد کامیاب ہو جائے گا ۔
میرے عزیز جلا وطنو!اب میں آتا ہوں الطاف بھائی کی طرف جن پر مجھے ہمیشہ فخر رہا ہے اور خصوصاً12مئی2007ء کو جو کام کراچی میں انہوں نے میرے لئے کیا تھا اسکا میں زندگی بھر احسان نہیں چکا سکتا آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو میرے متعلق جو کام اپنے دوستوں کو کہنا ہوتا ہے تو وہ بلاکر کہتے ہیں لیکن یہ الطاف بھائی کا کمال ہے کہ وہ لندن سے ٹیلی فون پر ہی کمال دکھا دیتے ہیں میں نے موجودہ حکومت میں بھی الطاف بھائی کا کوٹہ بحال رکھا ہے ویسے تو پچھلے سال میں انکی دال روٹی کا اچھا خاصا بندوبست ہوگیاتھا لیکن میں نے جناب آصف علی زرداری کے ذریعے سندھ کی حد تک انکا حصہ برقرار رکھا ہے اور موقع ملتے ہی انہیں وفاقی دھارے میں شامل کرلیا جائے گا تاکہ انکے ورکر ماضی کی طرح’’ دو دھاری تلوار‘‘ کی طرح کام کرسکیں میرے عزیز جلا وطنو! اپنی تقریر کے آخر میں میں ایک بار پھر جناب آصف علی زرداری اور وفاقی حکومت کا بہت مشکور ہوں کہ وہ ان برائیوں کو بھی اپنے ذمے لے رہے ہیں جو مسلم لیگ ق کی حکومت میرے کھاتے میں ڈال دیا کرتی تھی قوم کی طرف سے دی جانیوالی ’’صلواتیں ‘‘ کا مجھے بہت احساس ہے اور وفاقی حکومت نے ان کا ایک بڑا حصہ ٹھیکے پر مجھ سے لے لیا ہے مسلم لیگ ق کی قیادت سے مجھے کوئی گلہ نہیں ہے کیونکہ بیان بازی کی حد تک جو وہ سیاست کر رہے ہیں یہ انکی مجبوری ہے لیکن میرے دوست اور میری قربت کا اکثر دعویٰ کرنے والے شیخ رشید سے مجھے گلہ ہے انہوں نے اپنی جماعت کا اعلان کرتے ہوئے مجھ سے مشورہ بھی نہیں کیا ان سے جاوید شیخ اچھے ہیں جنہوں نے کھلے آسمان کے نیچے فلم کے پریمئیر شو کیلئے مجھے بلا کر جوانی کی یاد تازہ کر دی میں سمجھتا ہوں نالہ لئی اور شیخ رشید کی سیاست میں کوئی فرق نہیں ہے اسی لئے میں نے نالہ لئی روڈ کا نام شیخ رشید ایکسپرس وے رکھاتھا۔
عزیز جلا وطنو! میری تمام ہمدردیاں تمہارے لئے ہیں کیونکہ ہم وطنوں کا جو حال ہو چکا ہے اب وہ میری ہر قسم کی ہمدردی سے خوف زدہ ہو جاتے ہیں آنے والے دنوں میں ہم وطنوں کیلئے مزید کڑوی گولیاں مارکیٹ میں آرہی ہیں جبکہ سہولتیں ساری جلا وطنوں کو ہی ملیں گی اللہ صرف آپکا اور میرا حامی وناصر ہو، پاکستان پائندہ باد

Source: Daily Jinnah, 24/7/2008

Leave a Reply