’’معیاری بے عزتی او رکابل میں چیختی عورت‘‘( مستنصر حسین تارڑ کاکالم ہزار داستان)

صبح کی سیر کے جسمانی فوائد اپنی جگہ لیکن اس دوران جو دوست ملتے ہیں ان کی ویرائٹی یا تنوع بہت لطف دیتا ہے۔ ظاہر ہے وہاں کاروباری، بینکر، ملازمت پیشہ، نہایت شریف اور نہایت چلبلے لوگ بھی آتے ہیں ۔ تو ان میں ایک بٹ صاحب بھی ہیں جو اگر ہماری نسبت کم عمر ہیں تو بھی کتنے کم عمر ہونگے ۔ طالب علمی کے زمانے میں نہایت کامیاب مقرر رہے ہیں اور تقریری مقابلوں کو جیتنے کا ہنر خوب جانتے تھے۔ چنانچہ انہیں سیکڑوں کی تعداد میں ملی جلی اقسام کے نہایت عمدہ، نہایت بودے اور کبھی کبھار نہایت بے ہودہ شعر یاد تھے جن کے زور پر وہ حاضرین کو بھرپور تالیوں سے داد دینے پر مجبور کر دیتے تھے۔ بدقسمتی سے انہیں وہ سارے شعر اب تک یاد ہیں جنہیں وہ بے دریغ موقع محل پر کہے بغیر سناتے رہتے ہیں ۔ کبھی داد وصول کرتے ہیں اور کبھی ڈانٹ ڈپٹ، کبھی کبھار کوئی نہایت ہی برجستہ اور شگفتہ فقرہ بھی کس دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اس فقرے کی معنویت کی تہیں کھولتے کھولتے اس کا ستیاناس کر دیتے ہیں ہم اکثر ان سے گزارش کرتے ہیں کہ ایک اعلیٰ اور تخلیقی فقرہ ادا کرنے کے بعد خاموش ہو جانا چاہیے تاکہ سننے والے اس سے لطف اندوز ہو سکیں لیکن چپ رہنا ان کے بس میں نہیں ہوتا چنانچہ جونیئر ہونے کے ناطے سے انہیں ڈانٹ کر چپ کرایا جاتا ہے اور وہ اس ڈانٹ ڈپٹ کو بھی بہت انجائے کرتے ہیں اور جس روز ہم کسی اور موضوع کے بارے میں کوئی سنجیدہ گفتگو کرتے سیر کرتے چلتے جاتے ہیں تو کہیں گے ’’حاجی صاحب آج لطف نہیں آ رہا براہ کرم تھوڑی سی بے عزتی کر دیجئے۔‘‘
اس پر میں ہنس کر کہتا ہوں ’’نہیں بٹ صاحب آپ نے ابھی تک کوئی ایسی بات نہیں کی جس پر آپ کو ڈانٹا جا سکے، بے عزت کروانے کا شوق ہے تو آج کسی اور سے کروا لیجئے۔‘‘
کہیں گے’’آپ کی بے عزتی اور دوسروں کی بے عزتی میں بہت فرق ہوتا ہے جناب عالی‘‘
’’کیا فرق ہوتا ہے؟‘‘ میں پوچھوں گا۔
’’آپ ہمیشہ معیاری بے عزتی کرتے ہیں ‘‘
انہیں خوب داد دی جاتی ہے کہ خوب اصطلاح ایجاد کی ہے اور پھر عام بے عزتی اور معیاری بے عزتی کے درمیان جو فرق ہوتا ہے اس کے بارے میں روشنی ڈالنے کے لئے گزارش کی جاتی ہے تو وہ ایک لطیفہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صاحب نہایت خوفزدہ حالت میں سرپٹ بھاگے چلے جارہے ہیں اور ان سے ایک راہگیر دریافت کرتا ہے کہ بھائی صاحب خیریت ہے ناں اس طرح سر پہ پاؤں رکھے بھاگے کیوں چلے جارہے ہیں تو وہ صاحب کہتے ہیں ۔ جناب پچھلے چوک میں کچھ لوگ والد صاحب کو زدوکوب کر رہے ہیں اور میں بڑی مشکل سے عزت بچا کے بھاگا جارہا ہوں ۔ بقول بٹ صاحب اسے معیاری بے عزتی کہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کی بے عزتی کی جارہی ہے جب تک کہ کوئی قریبی دوست ان کے کان میں نہ کہے کہ میاں تمہاری تو بے عزتی ہو رہی ہے۔ یہ بھی معیاری بے عزتی کی ایک قسم ہے۔
مجھے ان دنوں اکثر بٹ صاحب کی یہ اصطلاح معیاری بے عزتی یاد آتی رہتی ہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے قوموں کی برادری میں مسلسل ہماری معیاری بے عزتی ہو رہی ہے اور اکثر ہمیں خبر تک نہیں ہوتی اور پھر کوئی اور ہمارے کان میں آ کر کہتا ہے کہ جناب آپ کی تو بے عزتی ہو رہی ہے۔ اگر صدر بش آدھی رات کے وقت ہمارے صدر صاحب کوایک ٹیلی فون کرتے ہیں تو ہماری عزت تو نہیں کرتے نہایت اہتمام سے ہماری بے عزتی کرتے ہیں اور ہم ’’یس سر‘‘ کہتے ہوئے کھڑے ہوکر سیلوٹ کرتے ہیں کہ ’’تھینک یو سر‘‘ چلئے امریکہ کے صدر سے بے عزتی کروانے میں کچھ خاص حرج نہیں کہ ہمیں اس کی عادت ہو چکی ہے لیکن ذرا تصور کیجئے کہ کرزئی صاحب بھی اتنے شیر ہو گئے ہیں کہ ہمیں للکارنے لگے ہیں صرف اس لئے کہ اگر کل دنیا ان کے پیچھے پڑ گئی ہے یعنی مارشل لاء اٹھ گیا ہے تو میں بھی انہیں ایک آدھ لگا دوں ۔ آپ کو شاید یاد ہو جب ہم لوگ امریکہ کے مطلوب پاکستانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کر کے انعام و اکرام پایا کرتے تھے تو امریکہ کے ایک سابق اٹارنی جنرل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستانیوں کا کیا ہے یہ تو اپنی ماؤں کو بھی فروخت کر سکتے ہیں اگرچہ میں نے اپنی تحریروں میں اس اٹارنی جنرل پر اپنا غصہ نکالا تھا کہ کم از کم ہمیں یہ تو خبر ہے کہ ہماری مائیں کون ہیں لیکن اس بیان کا گھاؤ آج تک میرے سینے میں تازہ ہے شاید یہ ہماری پہلی معیاری بے عزتی تھی۔
کچھ روز پیشتر عمران خان کے ہمراہ ایک برطانوی صحافی خاتون نے پاکستان میں ایک پریس کانفرنس کی جس کا بہت کم چرچا ہوا ہے اور خلاف توقع اس کا کوئی خاص ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ وہی صحافی خاتون ہیں جنہیں طالبان نے اغوا کرلیا تھا اور جب انہیں آزاد کیا گیاتو انہوں نے طالبان کے حسن سلوک کی بے حد تعریف کی تھی کہ کیسے وہ انہیں ’’بہن‘‘ کے نام سے پکارتے تھے اور نہایت احترام سے پیش آتے تھے۔ شنید تھا کہ وہ مسلمان ہو گئی تھیں انہی خاتون نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کابل کے بگرام عقوبت خانے میں ایک پاکستانی عورت مدت سے قید ہے راتوں کو اس کی چیخیں سنائی دیتی ہیں جن لوگوں نے اسے دیکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس کے سارے بال سفید ہو چکے ہیں اور وہ تقریباً پاگل ہو چکی ہے اگرچہ افغانیوں اور امریکیوں کا کہنا ہے کہ بگرام میں کوئی عورت قید نہیں ہے لیکن اس جیل میں بند بہت سے لوگوں نے اسے چیختے ہوئے سنا ہے اگر وہ ایک امریکی یا یورپی عورت ہوتی تو اب تک دنیا بھر کا میڈیا حرکت میں آچکا ہوتا جیسا کہ تب ہوا جب طالبان نے مجھے قید کیا تھا اور مختلف حکومتیں احتجاج کر رہی ہوتیں ۔ اس کا قصور یہ ہے کہ وہ ایک پاکستانی عورت ہے اس لئے ابھی تک بوڑھی ہو چکی، پاگل ہو چکی، بگرام کے قید خانے میں راتوں کو چیختی ہے اور پاکستانی حکومت اور عوام اس کی پکار نہیں سنتے۔ کیا وہ اس قید خانے میں مر جائے گی؟
اس بیان پر میں کوئی تبصرہ کیسے کروں کہ بہت زمانے پہلے شنید ہے کہ ایک مسلمان لڑکی کی پکار پر اس کے بھائیوں کا ایک لشکر سندھ میں آن اترا تھا اور اب ایک اور مسلمان عورت دن رات چیخ رہی ہے اور ہمیں اس کی پکار سنائی نہیں دیتی۔ کیا یہ بھی معیاری بے عزتی کی ایک قسم ہے؟

Source: Daily Jinnah, 24/7/2008

Leave a Reply