’’افغانستان ،امریکہ اور شیطان‘‘(مستنصر حسین تارڑ کاکالم ہزار داستان)

ہم نے افغانستان کی خاطر پہلے ہی اپنے آپ کو برباد کر لیا ، کیا اب اس ملک کے لئے ہم دوبارہ برباد ہونا چاہتے ہیں ہم اپنے نصف پاکستان کا تو دفاع نہیں کر سکے اور ہتھیار ڈال دئیے لیکن ہم نے افغانستان کو آزاد کروالیا اسے فتح کر لیا ایک ایسا ملک جس کے حکمران ہمیشہ شدید طور پر پاکستان کے دشمن رہے ہندوستان ان کا چہیتا رہا پختونستان کا شوشہ چھوڑا شائد کچھ لوگوں کو یاد ہو کہ ایک زمانے میں کابل میں پاکستانیوں کو اچھوت سمجھا جاتا تھا دریائے کابل کے پارکسی ہوٹل میں وہ قیام نہیں کر سکتے تھے اوران کے لئے دریا کے اس کنارے چند تھرڈ کلاس ہوٹل مخصوص کر دئیے گئے جو منہ مانگے دام وصول کرتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم کہیں اور رات بسر نہیں کرسکتے مجھے اس کا ذاتی تجربہ ہے قندھار میں شب بسر کرنے سے بیشتر میں نے حماقت کی کہ پاکستان قونصلیٹ چلا گیا اور افغان سی آئی ڈی میری جان کی بیری ہو گئی بڑی مشکل سے جان چھوٹی اور اب ذرا ان زمانوں کی صورت حال ملاحظہ کیجئے کہ کرزئی جسے امریکہ سے امپورٹ کر کے کابل کے تخت پر بٹھادیاگیا ہے اور جسے خود امریکی’’مےئر آف کابل‘‘ کہتے ہیں کہ بقیہ افغانستان اس کی عملداری سے باہر ہے تو یہ کانگڑی پہلوان ہمیں چیلنج کر رہا ہے اور بش بھی کہہ رہا ہے کہ ہم کرزئی کے پاکستان کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تحقیق کریں گے ادھر وزیراعظم اور وزیر حضرات بیان دے رہے ہیں کہ ہم کسی غیر ملکی فورس کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے بہت خوب گویا ہم فرمانبرداروں سے پہلے اجازت مانگیں گے کہ جناب ہم پاکستان کے اندر آجائیں اور ہم کہیں گے کہ نہیں جناب آپ نہ آئیں تو وہ ہمارا شکریہ ادا کر کے واپس چلیں جائیں گے ! اور اگر وہ اپنے گرم تعاقب کے راستے پاکستان کے ایک حصے میں داخل ہو جاتے ہیں تو کیا ہمیں ان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دینا چاہیے یہ یاد رکھئے کہ فاٹا کے علاقے کے طالبان کمانڈروں نے کھلے عام اعلان کیا ہے کہ وہ لوگوں کو ٹریننگ دے کر مسلح کر کے افغانستان کے اندر بھیج رہے ہیں تو ادھر کے الزامات میں کچھ نہ کچھ صداقت تو ہے اگر انگریزی محاورے کے مطابق ایک بھینسا چینی کے برتنوں کی دکان میں گھس آئے تو پھر فرمائیے کہ چینی کے برتن کیا کریں گے اس کی وحشی طاقت کے مقابلے پر اتر آئیں گے یا کوشش کریں گے کہ ان میں سے زیادہ سے زیادہ اپنی جان بچالیں اپنے آپ کو روند ے جانے یا توڑ دئیے جانے سے بچالیں ۔
امریکہ کی تمامتر زیادتیوں کے باوجود اس کے بارے میں ہم پاکستانیوں کا رویہ بھی زیادہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے ایک قریبی دوست ایسے ہیں کہ اگر انہیں بازار میں گھیا کدو نہ ملیں تو وہ نہایت سنجیدگی سے بیان دیتے ہیں کہ یہ سب پینٹاگون کا کیا دھرا ہے ابھی پچھلے دنوں ایک پاکستانی طالب علم نے امریکی سفیر سے ایک سرٹیفکیٹ یا ڈگری لینے سے سٹیج پر انکار کردیا کہ وہ تمام پاکستانیوں کی طرح وزیرستان میں امریکی طیاروں سے ہلاک ہونے والے لوگوں کے بارے میں رنجیدہ تھا اس طالب علم کے اس احتجاج کو بے حد سراہاگیا اور اخبارات میں اس کی توصیف میں بہت کچھ شائع ہوا کہ اس نے باغیرت ہونے کا ثبوت دیا ہے اس کے ساتھ ہمیں یہ معلومات بھی ملیں کہ وہ امریکی حکومت کے سکالرشپ پر دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ۔ ۔ ۔ ہاورڈ میں پڑھتا رہا ہے نہایت لائق ہے اور ہاورڈ یونیورسٹی کے کسی ادارے میں بھی شامل ہے اگر اس نے احتجاج کرنا تھا تو کیا یہ طریقہ کار مناسب نہ ہوتا کہ وہ سٹیج پر آکر امریکی سفیر سے اپنی سند وصول کرتا اور پھر ان سے مخاطب ہو کر کہتا کہ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے سکالرشپ عطا کر کے اپنی ایک موقر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا اور میں آگاہ ہوا کہ انصاف اور آزادی ہر شخص کا پیدائشی حق ہے سفیر صاحبہ میں وہی انصاف اور آزادی اپنے وطن کے لئے بھی مانگتا ہوں اور بے گناہوں کے قتل پر احتجاج کرتا ہوں کیا یہ طریقہ زیادہ مثبت اور دانش مندانہ نہ ہوتا آپ ذرا تصور کیجئے کہ اگر ایک امریکی کو پاکستان سکالر شپ عطا کرے اوروہ طالب علم پاکستانی سفیر سے سند وصول کرنے سے انکار کر دیتا کسی احتجاج کے حوالے سے تو ہم پاکستانیوں کا ردعمل کیا ہوتا میں سمجھتا ہوں کہ اس موقع پر امریکی سفیر کا رویہ ان کی سفارت کاری کی غمازی کرتا تھا انہوں نے اس سانحے کے بارے میں افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس وقت مختلف امریکی تعلیمی اداروں میں پانچ ہزار سے زیادہ پاکستانی زیر تعلیم ہیں اور پاکستانیوں کو امریکہ جانے اور وہاں پڑھنے کے لئے تمامتر سہولتیں دی جاتی ہیں بہت سے لوگ گواہی دیں گے کہ آج بھی بے شمار دوسرے ملکوں کی نسبت امریکہ کا ویزہ حاصل کرنا نسبتاً آسان ہے امریکی سفارت خانے کے اہلکار پاکستانی درخواست گزاروں سے تہذیب یافتہ سلوک کرتے ہیں اور اگر کاغذات مکمل ہوں تو بہت کم لوگوں کو انکار کیا جاتا ہے ذرا کسی برادر اسلامی ملک کا ویزہ حاصل کر نے کے لئے ان کی سفارت خانے جائیں تو دیکھئے آپ کا کیا حشر ہوتا ہے دوبرس بیشتر مجھے برلن میں منعقد ہونے والے ادبی سیمینار میں سرکاری طور پر مدعو کیاگیا جرمن وزارت خارجہ کی سفارش کے باوجود مجھے ویزے کے حصول میں بہت دشواری ہوئی اور جب ویزہ ملا تو پورے سات دن کا امریکی عام طور پر پانچ برس کا ویزہ جاری کردیتے ہیں امریکہ میں زیر تعلیم ایک پاکستانی طالب علم نے مجھے بتایا کہ ایک بار اگر آپ کسی یونیورسٹی میں داخل ہو جائیں تو انتظامیہ اتنا تعاون کرتی ہے کہ اگر آپ کسی معاشی مجبوری کے باعث تعلیم جاری نہ رکھ سکیں تو آپ کو نہ صرف یونیورسٹی میں ملازمت کی پیش کش کی جاتی ہے بلکہ فوری طور پر قرض بھی مہیا کیا جاتا ہے جسے بعد میں آپ آسان قسطوں میں ادا کر سکتے ہیں اور اگر نہ ادا کر سکیں تو بھی آپ کو معذرت قبول کر لی جائے گی پاکستانی طالب علموں کے لئے بھی پاکستان میں بہت سارے رفاعی ادارے امریکہ کے تعاون سے چل رہے ہیں بے شک ایران نے امریکہ کو ’’عظیم شیطان‘‘ کا لقب دے رکھا ہے لیکن اگر شیطان بھی کچھ اچھے کام کررہا ہو تو کم از کم ان کی داد تو دینی چاہیے۔

Courtesy: Daily Jinnah, 21/7/2008

(Visited 15 times, 1 visits today)

Leave a Reply