Jun 082008
 

Published in Daily Jinnah on 8th June 2008.

ہم خواب و خیال کی دنیا میں رہنے کے عادی لوگ ہیں۔ ہمیں داستانیں سننے کا شوق ہے اور اس شوق کے ہاتھوں خود بھی داستان بن جاتے ہیں۔ ہمیں قصے کہانیاں گھڑنے سے لمحہ بھر کی فرصت نہیں ملتی اور ہمارے قصوں میں ہماری آپ بیتی کا عکس نظر آتا ہے۔ ہماری قصہ گوئی کا آغاز پیدائش سے شروع ہوتا ہے اور مرنے تک جاری رہتا ہے۔ زندگی کے سفر میں ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے خیالات ادھورے رہ جاتے ہیں لیکن ہم انہی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیتے ہیں۔ منطق کا ہماری زندگی میںکوئی عمل دخل نہیں ہے، حقائق سے چشم پوشی ہماری عادت بن چکی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لئے کہ سچ بڑا کڑوا ہوتا ہے اور اسے نگلنا بہت مشکل ہے۔ ہم کسی امید کی کرن کی تلاش میں اندھیروں میں بھٹکنے سے خوف کھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سارے مسئلے دوسروں کے حوالے کر کے خود بے نیاز ہو جاتے ہیں تاکہ کھانے پینے اور موج میلے کیلئے زندہ رہیں۔
پاکستان میں آج کل قصہ سازی کی فیکٹری دن رات چل رہی ہے۔ اٹھارہ فروری سے اس کی پیداوار دگنی ہو چکی ہے، سڑکوں پر پھرنے والا ہر صارف خوش ہے کہ اسے کوئی پائی پیسہ ادا کئے بغیر جتنی کہانیاں چاہتا ہے سننے کو مل جاتی ہیں۔ خبروں تبصروں اور تجزیوں کیلئے اس کی بھوک کا سامان روزانہ بہم ہو جاتا ہے۔ حکمران بھی خوش ہیں، بھاری مینڈیٹ کے’’ پر‘‘ لگائے، چمکتے ایوانوں اور سنہرے محلات میں اتر چکے ہیں اور کروڑوں بے چہرہ لوگوں کو یہ مژدہ سنا رہے ہیں کہ جمہوریت کی بحالی کا وعدہ پورا ہو چکا۔ حکمرانوںنے عوام کو اتنی کہانیاں دی ہیں کہ اب ان کا بوجھ اٹھانا، ان کیلئے مشکل ہو رہا ہے۔
ہمیں بجٹ جیسی فضول چیز پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ غریبوں کو غریب تراور امیروں کو امیر تر بنانے کیلئے بجٹ آتے جاتے رہتے ہیں۔ وزیرخزانہ کے منہ سے اعدادو شمار کی شکل میں جو روشنی پھوٹتی ہے کسی کو اسے چھونے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے اصل میں یہ انگارے اور شرارے ہیں، جو کسی کو بھی جلا کر بھسم کر سکتے ہیں۔ ہمیں آئینی پیکج پر بھی مغز ماری کی ضرورت نہیں ہے ۔ابھی سیاستدانوں نے اس کی حالت درست کرنی ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب یہ پارلیمنٹ سے منظور ہو کر نکلے گا تو اس کی شکل کیا ہو گی۔
آیئے قصہ گوئی کی طرف واپس چلتے ہیں۔ میرے خیال میں آپ اچھی خاصی صاف ستھری سٹوری پر بھی اتنی نمک پاشی کرتے ہیں کہ اس کا حلق سے اترنا مشکل ہوتا ہے۔ ہمارے لیڈروں کی اچھی سے اچھی کہانی پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں ایسا کیوں ہے؟ میں اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہر کہانی کا دہرا مطلب ہوتا ہے اور مشکوک ہوتی ہے۔ یہ دونوں اجزاء سچائی کے زہر کیلئے تریاق کا درجہ رکھتے ہیں۔ ہمارے ٹیلی ویژن چینل ہر گھنٹے بعد جو’’ بریکنگ نیوز‘‘ ہمیں دکھاتے اور سناتے ہیں اس کے بخار کے اثرسے بچنا مشکل ہے۔ آصف زرداری کسی باغ کی کیاریوں میں چلتے ہوئے مجھے اور آپ کو ،یعنی سترہ کروڑ عوام کو کیا بتا رہے ہیں؟ پل پل کی ہمیں خبر ملے گی۔ عوام کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انہوں نے عہد کیا تھا کہ پاکستان کا مقدر بدل دیں گے اور ان ستر فیصد لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لے آئیں گے جن کی روزانہ آمدن فی کس دو ڈالر سے بھی کم ہے۔
کیا انہوں نے ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے جیسے اس کام کا آغاز کر دیا ہے۔ کیا انہوں نے دیانتدار عورتوں اور مردوں کی قطار کی قیادت کیلئے پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کیلئے کمر کس لی ہے۔ کیا انہوں نے پاکستان کی کشتی کو طوفان سے نکالنے کیلئے بلاول قلعہ اور سمندر پار اپنے بہت سے ولاز، مینشن اور پر آسائش اپارٹمنٹ چھوڑ دیئے ہیں؟
جب تک ہم خود اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھیں گے کہ وہ ایک عام آدمی کی طرح تھکا دینے والی محنت نہیں کرتے اور دیانتداری سے روزی کمانے کی مثال نہیں بنتے۔ ہم کسی کہانی کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔لیکن ایک بات یاد رکھئے۔ اگر ان کی کہانیوں میں آپ کو کوئی عیب نظر نہ آئے تو اس کا مطلب ہے کہ ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
نواز شریف اور شہباز شریف خوش ہیںکہ انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت مل گئی۔ ابھی انہوں نے اپنی اڑان بھرنی ہے فی الوقت ان کی سب سے بڑی کہانی یہ ہے کہ’’ ہزاروں لغزشیں حائل ہیں لب تک جام آنے میں‘‘ ۔سعودی بھی یقینا ان کی ہر نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے میاں نواز شریف کو شاہانہ انداز میں سرور محل سے رائیونڈ کے محل میں پہنچایا تھا۔
تاہم عرب کہانیاں نہیں سناتے۔ خاص طور پر پاکستان میں عرب سفیر منہ کو تالہ لگا کر رکھتے ہیں۔ کبھی آپ نے کسی اخبار میں ان کی تصویر دیکھی ہو یا بیان پڑھا ہو! عرب ہمیشہ پس منظر میںرہ کر کام کرتے ہیں۔انہوں نے برسوں سے ہمارے تمام حکمرانوں’’ فوجی کم سویلین‘‘ کو بچانے کیلئے ہمیشہ دامے درمے مدد کی۔ ہمارے حکمران ہمیشہ اپنے چیلوں چانٹوں ، اخباری چمچوں اور ٹی وی کیمرہ مینوں کا جہاز بھر کر حجاز مقدس لے جاتے ہیں تاکہ ان کوعبادت کرتے دکھایا جا سکے۔ پھر وہ سعودی شاہ سے ملتے ہیں، ایسا لباس زیب تن کر کے جس میں کشکول چھپا ہوتا ہے ۔یہ کشکول کبھی خالی واپس نہیں آتا۔
اسلام آباد میں سعودی سفیر کو ہمیشہ خصوصی درجہ حاصل رہا ہے۔ ان کیلئے ہفتے میں سات دن چوبیس گھنٹے جی ایچ کیو، ایوان صدر اور پرائم منسٹر ہاؤس کے دروازے کھلے رہتے ہیں ۔لیکن جس طرح ان کے فون نمبر کسی کو نہیںملتے اسی طرح وہ بھی نظر نہیں آتے۔ آپ کی اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے کو فون کرتے کرتے انگلیاں گھس جائیں گی لیکن اس شخص تک رسائی نہیںہو گی جس سے آپ بات کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان جن حالات سے گزر رہا ہے اس کے بارے میں کوئی سچی بات بتانے کیلئے تیار نہیں۔ سارا انحصار میڈیا پر کیاجاتا ہے جس کی توجہ صرف آصف زرداری اور نواز شریف پر مرکوزہے۔ باقی کسی کو کوئی اہمیت حاصل نہیں ۔خواہ وہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی اعلیٰ قیادت ہی کیوں نہ ہو۔ سیاسی قیادت کا کام صرف بصری اور صوتی اثرات چھوڑنا ہے۔کسی اہم فیصلے کے اعلان کی اجازت انہیں حاصل نہیں۔ ان کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ بلاول ہاؤس یا شریف اسٹیٹ سے انہیں جو کہانیاں ملیں وہ ان کے حکم کے مطابق بیان کرتے رہیں یا گھما پھرا کر انہی کو بار بار پیش کرتے رہیں۔ اپنی طرف سے انہیں کسی ترمیم یا اضافے کی ضرورت نہیں۔ جو سکرپٹ انہیں دیا جاتا ہے ، اسی کو پڑھتے رہتے ہیں۔
صرف ایک ترجمان ایسا ہے جس نے اپنے فرائض ہمیشہ سنجیدگی سے ادا کئے۔ اس کا نام فرحت اللہ بابر ہے جس کی وفاداری میں کوئی عیب نہیں۔ دیانت اور متانت کا نمونہ ہے۔ شاید پیپلز پارٹی کا واحد سپاہی ہے جس نے بے نظیر کی جلا وطنی کے زمانے میں تنہا جنگ لڑی۔ لیکن اسے اسے کیا انعام ملا؟ جب اس نے سینیٹ کا ٹکٹ مانگا تواسے انکار کر دیا گیا!
کیا ہم سب داستان گوئی کے شوقین نہیں!

 Posted by at 6:46 pm

Leave a Reply

%d bloggers like this: