Jun 062008
 

پچھلے ہفتے رونماء ہونے والے دو بڑے واقعات قابل ذکر ہیں ۔ ایک یہ کہ ملک میں اچانک یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ صدر پرویز مشرف کی روانگی اب ہفتوں کی نہیں دنوں کی بات ہے۔ دوسرا یہ کہ پیپلز پارٹی نے ججوں کا مسئلہ حل کرنے اور صدر کے اختیارات محدود کرنے کیلئے ایک آئینی پیکج کا مسودہ جاری کر دیا ۔
صدر مشرف کی رخصتی کی خبروں کی بنیاد تین عوامل پر تھی۔ ایک یہ کہ آصف زرداری نے یہ غیر متوقع بیان جاری کیا کہ مشرف ماضی کی نشانی ہیں جن کا مواخذہ ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ اعلان اس جانب اشارہ تھا کہ دونوں کے درمیان اب پہلے جیسے تعلقات کار نہیں رہے۔ دوسرے یہ کہ صدر مشرف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز کیانی کے درمیان تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جو رات گئے تک جاری رہی۔ اس ملاقات میں بہت سے اہم مسئلے زیر غور آئے اور کچھ ہنگامی فیصلے کئے گئے۔ تیسرے یہ کہ راولپنڈی میں مشرف کی حفاظت پر مامور تھرڈ بریگیڈ کی کمان اچانک تبدیل کر دی گئی جس کے سربراہ ان کے ایک پرانے وفادار تھے۔ یہ اقدام اس بات کا غماز تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف اپنے سابق باس اور محسن سے نظریں پھیر کر اپنی حیثیت کو مستحکم کر رہے ہیں ۔
زرداری کے مشرف کے خلاف بیانات ،قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت عدالتوں میں زیر سماعت تمام مقدمات واپس لینے کے فوراً بعد اور آئینی پیکج کے اعلان سے پہلے سامنے آئے۔ اس کا مطلب ہے کہ زرداری نے آئینی پیکج کے ذریعے صدر کے اختیارات محدود کرنے اور انہیں مواخذے کی اذیت میں مبتلا کرنے سے پہلے اپنی بریت کے ناقابل تنسیخ ہونے کا انتظار کیا۔اصل میں زرداری اور نواز شریف کے درمیان یہ بات خفیہ ڈیل کاحصہ ہے کہ صدر کو پہلے کمزور کیا جائے گا اور پھر انہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بدلے میں افتخار محمد چوہدری کو بطور چیف جسٹس بحال کر نے کے بعد کمزور اور بالآخر انہیں بھی اختیارات سے سبکدوش کر دیا جائے گا۔
صدر مشرف کیلئے یہ بات یقینا پریشان کن ہے۔ عام انتخابات سے پہلے صدر مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان امریکہ نے مفاہمت کرائی تھی کہ صدر مشرف کے اختیارات برقرار رہیں گے اور مرکز اور صوبوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ق) مل کر حکومتیں بنائیں گی۔ تاہم حالیہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کی واضح فتح اور صدر کی مسلم لیگ(ق) کی شکست کے نتیجے میں زرداری نے حکمت عملی تبدیل کر لی۔ صدر سے اب کہا جا رہا ہے کہ اپنے تمام اختیارات سے دستبردار ہو جائیں ۔ اس سے پہلے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کااتحاد انہیں نکالنے کیلئے وار کرے، وہ خاموشی سے ان کے سامنے بھیگی بلی بنے رہیں ۔ اگر زرداری کے ساتھ مشرف تال میل جاری نہیں رکھتے ،تو ان کے سامنے دو راستے رہ جا تے ہیں ۔ یا تو وہ مواخذے کا سامنا کریں ( جو پریشان کن تو ہے لیکن اس سے انہیں یقینی خطرہ نہیں کیونکہ پارلیمنٹ میں حکمران اتحاد کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے) اورانتظامی حکم کے ذریعے پرانے ججوں کی بحالی کی مزاہمت کریں کیونکہ یہ حکم ان کے نومبر کے صدارتی انتخابات کیلئے موت کا پروانہ ہوگا۔ یا پھر فوراً استعفیٰ دیں اور کسی محفوظ جگہ جا کر سکونت اختیار کریں ۔ ان حالات میں چیف آف آرمی سٹاف کیلئے ان میں کوئی بھی راستہ موزوں نہیں ہے۔ اس سے وہ دہری مشکل میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اگر جنرل کیانی انتظامی حکم کے ذریعے سپریم کورٹ پر قبضہ رکوانے کیلئے پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس یا صدر مشرف کی ہدائت پر مداخلت کرتے ہیں ، تو اس کا مطلب حکومت کی عملداری کو تسلیم نہ کرنا ہے جسے پارلیمنٹ اور اپوزیشن کی حمایت حاصل ہے ۔یہ ایک انتہائی کٹھن اورناگوارکام ہے، لیکن ایسا نہ کرنا، سابق آرمی چیف اور باس کی توہین آمیز طریقے سے رخصتی کو یقینی بنانا ہے ۔ یہ بھی ان کیلئے کوئی آسان بات نہیں ہے۔ لہٰذا یہ طے ہے کہ مسئلے کا کوئی قابل عمل حل نکالنے کیلئے جنرل کیانی اور صدر مشرف کے درمیان ملاقات میں مختلف متبادلات زیر غور آئے ہوں گے۔ یہ قابل عمل حل کیا ہو سکتا ہے؟
جمعرات سے اب تک تین ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہو تا ہے کہ اہم لوگوں کے مابین کوئی عارضی سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ زرداری بظاہر وقتی طور پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں ۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت صدر مشرف کے ساتھ کام کرتی رہے گی۔ وزیراطلاعات شیری رحمن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ(ن) کے ساتھ صدر کے مواخذہ کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی۔ زرداری نے یہ بات دہرائی ہے کہ وہ اب بھی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ججوں کی بحالی کے مخالف ہیں ۔ دوسرا یہ کہ صدر بش نے ایک بار پھر صدر مشرف کی حمایت کرکے اپنا وزن ان کے پلڑے میں ڈالا ہے۔ تیسرا یہ کہ فوج نے میڈیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ آئندہ بے پرکی اڑانے سے باز رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر مشرف سے جان چھڑانا ، انتظامی حکم کے ذریعے ججوں کو بحال کرناحتیٰ کہ صدر کا مواخذہ کرنے کی کوشش کرنا بھی فی الحال زرداری کیلئے ممکن نہیں رہا ۔ ایسی کوئی حرکت نہ صرف جنرل کیانی کو مشکل صورت حال سے دوچار کر دے گی بلکہ اس سے مسلم لیگ(ق) میں بھی مسلم لیگ(ن) میں جانے کیلئے بھگڈر مچ جائے گی ۔ پنجاب اور اسلام آباد میں نمبروں کا کھیل الٹ جائے گا اور اقتدار میں زرداری کی برتری خطرے میں پڑ جائے گی۔ اسی طرح سارے اختیارات برقرار رکھنا اور اپنے عہدے کی معیاد پوری کرنا صدر مشرف کیلئے بھی اب آپشن نہیں رہا۔ انہیں فوراً سے پیشتر جانا پڑے گا۔
یہ وہ حالات ہیں جن میں آئینی پیکج لٹکا ہوا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ججوں کے مسئلے پر نواز شریف کو زرداری کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑیں گے، زرداری کے سامنے مشرف کو اختیارات سے چمٹے رہنے کی ضد چھوڑنا پڑے گی اور روانگی کا وقت طے کرنا ہو گا۔ آئینی پیکج کی منظوری اور اس کے ذریعے ججوں کی بحالی صرف اسی صورت ممکن ہے اگر صدر مشرف کی کنگز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر مشرف کی باوقار رخصتی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ق) کے درمیان مفاہمت کی بنیاد پر کتنی جلد عمل میں آتی ہے!

Leave a Reply

%d bloggers like this: