Jun 032008
 

ارے ، تھوڑی سی تفریح میں آ خر حرج ہی کیاہے؟ ایک صاحب اقتدر شخص رقص کیوں نہیں کر سکتا ؟محض اسی شرم کے احساس سے تھرکتے پاؤں کیوں رک جائیں کہ آئندہ نسل کیا کہے گی؟ پاکستانی کیا محسو س کریں ؟فخر یا شرم؟۔جشن مرگ منانے والوں میں ہم شامل کیو ں نہیں ہوسکتے ؟اگر ہما را سربراہ کھڑے ہوکر اس کے بے ضرر ہونے کا اعلان کرتا ہے یا قومی خزانے کے امین‘ نور جہاں کے مدھر گیت پر ۔’’رقص میں ہے سارا جہاں ‘‘ کا منظر پیش کر سکتے ہیں‘ تو پھر سارا پاکستان جنونِ رقص سے لطف اندوز کیوں نہیں ہوسکتا ؟ ہم اس قسم کے رقص ونغمہ سے کیوں دور رہیں ؟
پچھلے ہفتے ایک صبح ایک پیغام مجھے کئی بار ملا’’ دیکھیں کون ناچ رہا ہے؟‘‘، اس سے پہلے ایک ٹی وی چینل، اس رقص پر مبنی ساری ریکارڈنگ دکھا چکا تھا ۔ اس میں اچھی تفریح کاسامان تھا ۔ میں پنجابی گانا اور پھر اس کی دھن پر ہوتا ہوا رقص دیکھ کر بہت محظوظ ہوئی ، حقیقت میں دھن اتنی مسحورکن تھی کہ میرا جسم کرسی چھوڑے بغیر بے خودی سے لہرانے لگا ۔ میرا مطلب سمجھنے کی کوشش کریں۔ دراصل سارا قصور میڈم نور جہاں کا ہے، جس نے ایسے گانے گائے ہیں‘ جنہیں سن کرآدمی بے خود ہوجاتاہے ۔ خواہ آ واز ان کی ہویانہ ہو‘ یا نورجہاں سے ملتی جلتی کسی اور کی ہو۔ اس کے باوجود اس کے سازو آہنگ میں اتنا جادوہوتا ہے کہ ’’تگڑے سے تگڑا ’’ آدمی بھی ردھم کی ضرورت کے مطابق ،تالی بجانے‘ زمین پر پاؤں مارنے یا اٹھانے اورجذب و مستی کے عالم میں بازو لہرائے بغیر رہ نہیں سکتا۔
لیکن حسن لطیف سے عاری کچھ گوتھل قسم کے لوگ دوسروں کو ’’انجوائے‘‘ کرتے دیکھ نہیں سکتے۔ اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم سب کتنے تنگ نظر ہو گئے۔ دراصل یہ وہی ’’روشن خیال جدت پسندی‘‘ کی چکا چوند ہے‘ جس کی مدد سے صدر مشرف نے بش کو زیرِ دام لانے کی کوشش کی‘ لیکن پاکستان میں ان کی اس حسنِ تدبیر کو چشمِ پذیرائی سے نہیں دیکھا گیا۔
میرے خیال میں ہم منافقانہ تنقید میں مہارت حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ ہم صرف اپنی خانہ ساز قدروں کے سلسلے کو ہی دودھ پلاتے ہیں۔ اب دیکھئے ناں کہ میرے اور آپ کے لئے تو رقص و سرور سے لطف اندوز ہونا جائز ہے یا ان لوگوں کے لئے بھی جائز ہے‘ جو مجروں میں جا کر ناچنے والیوں پر روپے نچھاور کرتے ہیں‘ لیکن ہمارے قائدین کے لئے جائز نہیں کہ وہ رقص کا گناہ کرتے پکڑے جائیں۔ اس حالت میں کہ ان کی یہ ’’حرکات‘‘ ٹی وی کیمرہ محفوظ کر لے۔ میں کوئی نیو رو سرجن (اعصابی سرجری کی ماہر) نہیں ہوں‘ لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ موسیقی سے نروان حاصل ہوتا ہے۔ آپ کے دماغ کا بایاں حصہ اپنی ذات کے متعلق‘ روزمرہ واقعات کا تجزیہ کرنے اور درست‘ غلط کا فیصلہ کرنے کیلئے فوری طور پر قوتِ گویائی کو متحرک کرنے کا سرچشمہ ہے۔ اس کا تعلق دماغ کے پچھلے حصے سے ہے‘ یہ ایک جادو کی پٹاری ہے‘ جو متحرک روشن توانائیوں سے بھرپور ہوتی ہے۔
موسیقی کی دنیا میں دماغ کا یہ حصہ زاہد خشک کا درجہ رکھتا ہے۔ آپ ناچیں اور اپنے دماغ کے دائیں حصے سے موسیقی کی دھنیں نکلنے دیں۔ دایاں حصہ خلقی جو ہر کا ایک دریا ہے اور ساتھ ہی ساتھ حزن و ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اس کی نشوونما کرنا ہم سب کی ضرورت ہے۔ میری نصیحت یہ ہے کہ ڈانس فلور پر طبع آزمائی سے پہلے اپنے گھر کے کمرے میں مکمل تنہائی میں بچوں کی طرح قدم مارنا سیکھیں۔ اگر اس سے بھی آپ ڈانس کرنا نہیںسیکھ سکتے‘ تو پھر اپنی کسی بہترین دوست سے ’’کسبِ فیض‘‘ کریں۔ وہ آپ کو چا چا اور رمبا سمبا کا مرکب سکھا سکتی ہے اور اگرآپ مہم جو قسم کے لوگ ہیں‘ تو اس سے آگے بھی سکھایا جا سکتا ہے۔
تو کیا آپ کو روبوٹ حکمران چاہئیں؟ اگر نہیں تو پھر بچگانہ باتیں چھوڑ دیں۔ میں نے آپ میں سے کسی کہ یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ عمر رسیدہ لوگوں کو ناچنا نہیں چاہئے؟ تو پھر اس کیلئے کون سی عمر موزوں ہے؟ ٹینا ٹرنر کی عمر 60 سال سے متجاوز ہے‘ وہ آج بھی اپنے پسندیدہ گانے گاتی ہیں۔ اس کیلئے کس قسم کے لگاؤ کی ضرورت ہوتی ہے؟ چند سال پہلے میں نے نیو یارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن (Madison Square Garden) میں ان کی مسحور کن پرفارمنس دیکھی۔ ہر عمر کے تماشائیوں سے کچھا کھچ بھرے ہوئے اس ہال میں شائد ہی کوئی آدمی ہو گا‘ جس نے رقص نہ کیا ہو۔ ہم سب کھڑے ہو گئے اور تمام شب‘ صبح ہونے تک ٹینا ٹرنر کے ساتھ رقص کرتے رہے۔
صدیوں کی دانش‘ رقص کے ساتھ مل کر عقل و شعور کے دروازے کھولتی ہے۔ سماجی علوم کے ماہرین یہی بتاتے ہیں کہ عمر رسیدہ لوگ ایسی صورت حال سے زیادہ معلومات حاصل کرتے ہیں‘ جہاں وہ معلومات عامہ کے بڑے ذخیرے کے ساتھ اپنی معلومات کا موازنہ کرتے ہیں۔
پس‘ آپ کی عمر موزوں ہے یا نہیں؟ اس خیال سے ماوراء ہو کر بیخودی میں ناچتے رہئے! ملک کو اپنا مفاد مطلوب ہوتا ہے۔ موسیقی محبت کی غذا ہے‘ اسے باہمی موانست پیدا کرنے‘ تنگ نظری سے چھٹکارا پانے اور اپنی اپنی ذت کے خولوں سے باہر آنے میں ہماری مدد کرنی چاہئے۔
میریم ویبسٹر (Merriam Webster) ذات کے خول یا جھجک کی تشریح یوں کرتی ہیں،-1 ہر وہ چیز یا خیال جو منع کرتا ہے‘ رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور پابندیاں لگاتا ہے۔ -2 آزادانہ سرگرمی‘ آزادیٔ اظہار اور آزاد طرزِ عمل پر نفسیاتی رکاوٹ۔ -3 ایسا ذہنی ردِ عمل جو عمومی رویے اور کسی دوسرے ذہنی طرزِ عمل پر ایک دلی خواہش کے طور پر پابندی عائد کرتا ہے۔
دوسری رات‘ ایک چھوٹی سے ڈنر پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا‘ جس میں ایک پاکستانی کو گانے کی دعوت دی گئی۔ اگلی نشست پر ہر عمر کی عورتیں تشریف رکھتی تھیں۔ دونوں اطراف میں ان کے خاوند بیٹھے تھے۔ جیسے جیسے محفل گرم ہوتی گئی اور گانے رومان پرور فضاء پیدا کرنے لگے‘ تو خواتین اس طرح بیٹھی تھیں‘ جیسے مجسمے ہوں۔ ’’کچھ کی نظریں نیچی تھیں‘ دوسری طرف ان کے مرد ساکت و جامد نہ بیٹھ سکے۔ انہوں نے تالیاں بجا کر داد دی۔ خود بھی گانے کا ساتھ دیا، تالیاں بجائیں اور ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہوئے۔
گانے سے لطف اندوز ہونے میں کون سا امر مانع ہے؟ بہت سے لوگ، خواتین سے امید کرتے ہیں کہ پبلک میں اپنے جذبات کو پوشیدہ رکھیں اور اپنے احساسات کو اجنبیوں کے سامنے ظاہر نہ کریں۔ یہی ہماری ابتدائی تربیت کا ثمرہ ہے۔ ہلا گلا کرنا عورتوں کو زیب نہیں دیتا‘ لیکن مرد ہنگامے کریں‘ بھونڈی آواز میں شور و غل کریں ان کو سب کچھ زیب دیتا ہے۔
میں اس وقت کا انتظار کر رہی ہوں، جب اسی طرح کی کسی پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہو‘ جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔ میں کھڑی ہو جاؤں اور ساری رات رقص کرنے میں گزار دوں۔ اس سے لطف اندوز ہونے کیلئے تذکیر و تانیث کا امتیاز نہیں ہونا چاہئے۔ مردوں کو کیا حق ہے کہ وہ عورتوں کی نسبت زیادہ انجوائے کریں۔

 Posted by at 9:32 am

Leave a Reply

%d bloggers like this: