May 312008
 

اس28مئی کو پاکستان کے ایٹمی دھماکے کو 10 سال ہو گئے ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے اس واقعے کی سالگرہ کہا جائے یا برسی۔ خیال تھا کہ ایٹمی طاقت بننے کے بعد اقوام عالم میں ہمارا وقار بڑھے گا اور ہمارے بارے میں کوئی الٹی سیدھی بات کرنے سے پہلے ہمارے مخالفوں کو دس بار سوچنا پڑے گا اور ہماری سرحدوں کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے کا حوصلہ تو اب شاید کسی سپرپاور کو بھی نہیں ہو گا اور یہ کہ پاکستان اب زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی نئی سے نئی منزلیں طے کرے گا مگر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے آج نہ ہماری نظریاتی سرحدیں محفوظ ہیں اور نہ جغرافیائی، ایک عام آدمی کی ضرورت کی ساری چیزیں اس قدر مہنگی اور نایاب ہو گئی ہے کہ اب درمیانہ طبقہ بھی اف اف کرنے لگا ہے دہشت گردی کی وارداتیں روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئی ہیں اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کے تنظیمی ڈھانچے کو ہلاک کر رکھ دیا ہے لوگوں کو انصاف مہیا کرنے والے خود گلی گلی انصاف کی بھیک مانگتے پھر رہے ہیں اور میڈیا کے مختلف چینلز پر ہر وقت ایک ایسا تماشا لگا رہتا ہے جسے دیکھ دیکھ اور سن سن کرآنکھیں اور کان دونوں پک گئے ہیں۔
18 فروری کے انتخابات میں عوام نے اپنی پسند اور ناپسند دونوں کا کھل کر اظہار کر دیا ہے لیکن ایوان صدر سمیت ساری سیاسی جماعتیں ایک ایسی کھچڑی پکا رہی ہیں جس میں عوام کا نمک برابر دخل بھی نہیں ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور مبہم صورتحال صوبہ پنجاب میں ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے بنتے بگڑتے الحاقوں اور میثاقوں کی وجہ سے جہاں حکومت کی صورت حال ایک پھسلتی ڈھلوان جیسی ہے جس پر ابھی تک کسی کے قدم بھی مضبوطی سے جم نہیں پائے حال ہی میں اس کے طویل ترین عرصے تک گورنری کرنے والے جنرل (ر) خالد مقبول کو بھی فارغ کر دیا گیا ہے اور یہ فیصلہ نہ تو ان کی کسی غلطی کی بنیاد پر ہوا ہے اور نہ سیاست کے کسی اصول کی پابندی اس کی وجہ بنی ہے ان کو صرف اس لئے ہٹایا گیا ہے کہ ایوان صدر نے اپنی نمائندگی ایک سابق فوجی کو دینے کے بجائے ایک ایسے سویلین کو دینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے مسلم لیگ ن کی موجودہ اور متوقع حکومت کو نکیل ڈالی جا سکے بعض احباب ابھی تک اس مخمصے میں ہیں کہ سلمان تاثیر عوامی جماعت پی پی پی کے نمائندہ ہیں یا جدید سرمایہ دار طبقے کے۔
جہاں تک سابق گورنر خالد مقبول صاحب کا تعلق ہے ان کے بارے میں بہترین ریمارک ہمارے ایک صحافی دوست نے دیا تھا کہ ان میں فوجی ہونے کے علاوہ کوئی خرابی نہیں اور میں خود بھی اس بات کا شاہد ہوں کہ ایوان صدر بلکہ صدر مشرف کی نمائندگی کے جوش میں دیئے گئے ان کے کچھ بیانات کو اگر ان کی مجبوری سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے تو جس لگن، محنت اور تعمیری انداز میں انہوں نے اپنے فرائض سر انجام دیئے ہیں گزشتہ تیس برس میں شاید ہی کسی صوبے کو ایسا انتھک کام کرنے والا گورنر نصیب ہوا ہو تعلیم اور فنون لطیفہ کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہے اور وزیراعلیٰ کے اختیار میں دخل دیئے بغیر مختلف طرح کے تعمیری کام کرتے رہے اور سب سے یکساں حسن سلوک کی وجہ سے بطور ایک انسان بھی عمومی طور پر خاصے پسند کئے جاتے رہے ایک ایسے وقت میں جب فوجی حکومت کے ہر کام کی مخالفت اور برائی کرنا سکہ رائج الوقت بن چکا ہے میرے یہ تعریفی الفاظ ممکن ہے کچھ لوگوں کو ناگوار گزریں مگر میں پوری ایمانداری سے یہ سمجھتا ہوں کہ اچھا کام کوئی بھی کرے وہ کسی اور وجہ سے ہو نہ ہو اس کام کی حد تک یقیناً لائق تعریف ہوتا ہے۔
انتخابات کے نتائج کے بعد سے اب تک ججز کی بحالی کا ایشو پہلے نمبر پر جا رہا تھا اور آٹے، چینی اور گھی مہنگائی، دس دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ، روپے کی قیمت میں کمی اور پٹرول و گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی خبریں بھی اس کی جگہ نہیں لے سکی تھیں سو کسی بزرجمہر نے سوچا کہ کیوں نہ کالا باغ ڈیم کا کارڈ کھیل کر دیکھاجائے لیکن لگتا ہے کہ یہ کارتوس بھی زیادہ گیلا ہونے کی وجہ سے ٹھیک سے چل نہیں سکا اب لے دے کر ڈاکٹر قدیر خان کا ایشو بچا ہے کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کر مرکزی کردار اور محسن پاکستان کہلانے والے اس ہیرو کی نظر بندی کو اب شاید چار سال ہو چکے ہیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دس سال قبل جب انہی دنوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر پر ہر طرف سے داد تحسین کے ڈونگرے برسائے جارہے تھے تو ان کے چند ساتھیوں نے اپنی خدمات گنواتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے بے شک پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے حوالے سے بہت کام کیا ہے مگر وہ اس مہم میں اکیلے نہیں تھے اور دوسروں کو بھی اس تعریف میں ان کا جائز حصہ ملنا چاہیے مگر انکی بات پر بہت کم لوگوں نے کان دھرا کہ بقول مولانا حالی
فخر ہوتا ہے قبیلے کا سدا ایک ہی شخص
اب اسے نوشتہ تقدیر کہیے یا حالات کا فیصلہ لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ ایٹمی دھماکہ اور ڈاکٹر قدیر خان صاحب کا نام لازم و ملزوم بن گئے کچھ ناراض سپرپاور اور عالمی میڈیا کے کچھ تجزیہ نگاروں ایٹمی صلاحیت اور متعلقہ سازوسامان کی مبینہ سمگلنگ کے بارے میں الزامات اور خدشات کا اظہار کیا تھا لیکن پاکستانی قوم نے اپنے مزاج کے عین مطابق اپنے ہیرو کے خلاف کوئی بھی بات سننے سے انکار کردیا لیکن چند ہی برسوں میں دو ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے سارا منظر نامہ بدل گیا نائن الیون کے بعد ایک طرف امریکہ کے منہ سے کف جاری ہو گیا اور دوسری طرف جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ یہ کہہ کر الٹ دیا کہ وہ ان کو ایک کمرشل فلائٹ کے سیکڑوں مسافروں سمیت ختم کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اب چونکہ پاکستان کا ایٹمی دھماکہ بھی امریکہ کے بار بار منع کرنے کے باوجود میاں نواز شریف کے دور حکومت میں ہوا تھا تو دونوں پارٹیوں کا قارورہ مل گیا اور امریکہ کے ایما پر جنرل مشرف نے ڈاکٹر قدیر کو مختلف النوع مغربی ایجنسیوں کے فراہم کردہ شواہد کی بنیاد پر دنیا اور قوم کے سامنے رسوا کرنے کے پروگرام میں حصہ دار بننا منظور کر لیا۔
اب اگر ایک منٹ کے لئے یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ڈاکٹر صاحب پر لگائے گئے یہ الزامات سراسر غلط اوربے بنیادنہیں اور واقعی انہوں نے ایران، لیبیا، شام اور کوریا وغیرہ کو معلومات اورمتعلقہ سامان سمگل کیا ہے تو پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ رہتا ہے کہ معلومات کی فراہمی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اتنی شدید حفاظت اور کئی ایجنسیوں کی ہمہ وقت نگاہ میں رہنے کے باوجود ڈاکٹر قدیر نے کئی کنٹینروں پر مشتمل یہ سامان تن تنہا کہوٹہ سے ان ممالک میں کیسے پہنچایا اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو اس میں ملک کے کچھ بہت معتبر ادارے اور بااثر افراد بھی شامل تھے وہ لوگ کون ہیں، تب کہاں تھے اور اب کہاں ہیں اور ان سب کی جگہ ڈاکٹر خان کو قربانی کا بکرا کس لیے بنایا جارہا ہے۔
جہاں تک مجھ سمیت پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کا تعلق ہے تو اکثریت کی رائے یہی ہے کہ جو شخص پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کی علامت بن کر سامنے آیا ہے اور اس حوالے سے قوم کا ہیرو اور محسن ہے تو اس کے اس امیج کی حفاظت ہم سب کا اجتماعی فرض بنتا ہے اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ خود امریکہ کے ایٹمی طاقت بننے کے پیچھے زیادہ ہاتھ ان روسی اور جرمن سائنسدانوں کا تھا جو یا تو خود سمگل کر کے امریکہ لائے گئے تھے یا ان کی مہارت اور معلومات کو امریکہ میں سمگل کیا گیا تھا اور اس کے لئے بھاری رقومات خرچ کی گئی تھیں اور جنگ ختم ہونے کے بعد ان میں سے بیشتر کو امن اور سائنس کے نوبل انعامات دلوائے گئے تھے اگر وہ سب کچھ جائز تھا تو کیا پاکستان اورڈاکٹر قدیر کو صرف اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ ساری دنیا کو انور مسعود کا یہ مصرعہ یاد کرایا جا سکے کہ
تمہاری بھینس کیسے ہے کہ جب لاٹھی ہماری ہے

Courtesy: Daily Jinnah, 31/5/2008

 Posted by at 1:48 pm

Leave a Reply

%d bloggers like this: