May 312008
 

آج 28مئی ہے ۔ دس سال قبل پاکستان آج کے روز ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے طور پر ابھرا تھا۔ یہ دھماکے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نگرانی میں ہوئے اور وہی اس پروگرام کے خالق اور معماربھی تھے۔ مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے دو بار ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان پر ایک کتاب ’’جو ہر طراز‘‘ لکھی گئی تھی جس کی دوبارہ اشاعت کا اہتمام جناب ضیاء شاہد نے کیا تھا۔ معذرت خواہ ہوں مصنف کا نام یاد نہیں۔ یہ 2003ء کے وسط کی بات ہے۔ وزیراعظم ظفر اللہ جمالی تھے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کہوٹہ سے ہٹایا جاچکا تھا۔ وہ ان کے مشیر کے طور پر وزیراعظم سیکرٹریٹ ہی میں بیٹھا کرتے تھے۔ میجر اسلام ڈاکٹر صاحب کے سیکرٹری تھے۔ ضیاء شاہد صاحب نے لاہور سے کتابیں چھپوا کر اسلام آباد بھیجیں اور مجھے ہدایت کی کہ کسی اور کے ہاتھ بھیجنے کے بجائے خود جاکر پیش کرو۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ نہ بھی کہتے تو بھی میں ہی جاتا کیونکہ ڈاکٹر صاحب سے مشرف ملاقات کا اس سے اچھا موقع شائد پھر نہ ملتا۔ ایک بار ڈاکٹر صاحب سے دفتر میں ملاقات ہوئی اور دوسری بار ان کے گھر۔ یہ وہ وقت تھا جب ڈاکٹر صاحب کوایک لحاظ سے کھڈے لائن لگایا جاچکا تھا۔ ایسے حالات میں کتابیں لے کر وزیراعظم سیکرٹریٹ پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب کا دفتر ڈھونڈا۔ میجر اسلام نے بہت گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ کتاب دیکھی اور پھر جان پہچان کے بعد کہنے لگے ’’آپ بھی ڈاکٹر صاحب پر کتاب لکھیں‘‘۔ میرے لیے یہ بہت غیر متوقع فرمائش تھی۔ عرض کیا ’’میں ڈاکٹر صاحب پر کتاب کیسے لکھ سکتا ہوں؟ ابھی تو ان سے میری ایک ملاقات بھی نہیں ہوئی‘‘۔ میجر اسلام نے کہا ’’ڈاکٹر صاحب پر کافی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میںسے ریفرنس لے لیں۔ اس کے علاوہ اخبارات سے تازہ مواد (کٹنگ) وغیرہ لے لیں‘‘۔ میں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرا نہیں خیال کہ میں اس قابل ہوں کہ ڈاکٹر صاحب پر کتاب لکھوں‘‘۔ حقیقت تو یہ تھی کہ میں خود کو کتاب لکھنے ہی کے قابل نہیں سمجھتا تھا اور ڈاکٹر صاحب تو ویسے ہی بہت بڑا موضوع تھے۔ پھر کتاب لکھنے کا جو طریقہ میجر اسلام صاحب نے بتایا اس سے بھی میں متفق نہیں تھا۔ بات چیت جاری تھی کہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے بلاوا آگیا۔ ان کے دفتر کی طرف جاتے ہوئے میرے ذہن و دل کی کیا کیفیت تھی مجھ میں وہ بیان کرنے کی سکت نہیں تو کتاب کیسے لکھی جاسکتی تھی۔ اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھ رہا تھا کیونکہ میں ان لوگوں میں شامل ہونے جارہا تھا جن کی ڈاکٹر صاحب تک رسائی ہوئی اور جن سے وہ ہم کلام ہوئے۔ تاہم ایک بات کا افسوس رہے گا کہ فوٹو گرافر ساتھ کیوں نہیں لے کر گیا۔ ان جذبات و احساسات کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کے دفتر میں قدم رکھا تو وہ بہت موٹی فائل سامنے رکھے اس کے مطالعے میں مصروف تھے۔ ہمیں اپنے سامنے پاکر متوجہ ہوئے اور بڑی شفقت کے ساتھ حال چال دریافت کیا۔ میں نے کتاب پیش کی تو بہت خوش ہوئے۔ ضیاء شاہد صاحب نے کتاب کا سر ورق خوبصورت انداز میں دوبارہ بنوایا تھا۔ اس کا کاغذ بھی پہلے ایڈیشن سے بہتر تھا اور پرنٹنگ بھی معیاری تھی۔ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ (Presentable) بنانے کے لیے ضیاء شاہد صاحب نے اپنے ادارے کے سب سے سمجھدار اور ہنرمند رکن عبدالجبار ثاقب کی ذمہ داری لگائی تھی جو انہوں نے بخوبی پوری کی۔ ڈاکٹر صاحب کو کتاب بہت پسند آئی۔ اس طرح رسمی بات چیت کے دوران ہی میں نے دریافت کیا کہ آج کل آپ کی کیا مصروفیات ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ’’ان دنوں تعلیم کے فروغ پر کام کررہا ہوں۔ انہوں نے موٹی سی فائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دبئی میں یونیورسٹی کے قیام کی فائل ہے۔ اس پر کام ہورہا ہے۔ وہاں بن جائے تو پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔ یہاں بھی کیمپس بنایا جاسکتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات سے پہلے میجر اسلام کے ساتھ گفتگو کے دوران مجھے احساس ہوا کہ ان کے حالات اچھے نہیں۔ گویا آگے چل کر جو ڈی بریفنگ ہوئی اور بعدازاں صدر جنرل مشرف نے پی ٹی وی پر لاکر معافی منگوائی اور قید کر دیا اس کی ابتداء ہو چکی تھی۔ میجر اسلام اس وقت دو مختلف کیفیات میں گفتگو کررہے تھے۔ ایک طرف وہ ڈاکٹر صاحب کے اس وقت کے حالات سے پریشان تھے اور آگے کا منظر انہیں نظر بھی آرہا تھا اور دوسری طرف وہ ایک نئے بندے کے سامنے جو اخبار والا بھی تھا حقائق کھول کر بیان کرنے سے بھی ہچکچارہے تھے۔ یعنی بولنا بھی چاہ رہے تھے مگر گھبرا بھی رہے تھے۔ تاہم اس گو مگو کی گفتگو سے بھی میں نے اتنا مطلب ضرور اخذ کر لیا کہ ’’یہ لوگ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ اچھا نہیں کررہے‘‘۔
چند روز بعد جب کتابوں کی مکمل کھیپ لے کر ڈاکٹر صاحب کے گھر جانا ہوا تو میری کیفیت پہلے سے اس طرح مختلف تھی کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ ان کے دفتر جاتے ہوئے چیک کئے جانے یا کسی جگہ نوٹ ہونے کا احساس نہیں تھا لیکن میجر اسلام کی گفتگو کے بعد جب ڈاکٹر صاحب کے گھر گیا تو مجھے علم تھا کہ میری آمد اور ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ایجنسیوں کے رجسٹر میں ضرور آئے گی مگر چونکہ میری ایسی کوئی حیثیت نہیں تھی جس پر کسی کو اعتراض ہو سکتا۔ اس لیے مجھے کوئی ڈر خوف یا پریشانی بھی لاحق نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت گھر سے باہر نکل کر سڑک پر ٹہل رہے تھے جیسا کہ ای سیون کے مکینوںکا شام کو مارگلہ کے دامن میں چہل قدمی کرنا مشغلہ ہے۔ اس سے اتنا ضرور واضح ہوا کہ ابھی ان پر کوئی خاص پابندی نہیں لگائی گئی تھی اور وہ کہیں بھی آجاسکتے تھے مگر ان کے ہاتھ میں موجود چھڑی بتارہی تھی کہ ان کی صحت گر رہی ہے۔
بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ ڈاکٹر صاحب کے گرد اسی وقت سے شکنجہ کسنا شروع کر دیا گیا تھا۔ دسمبر2003ء میں پہلے ڈاکٹر صاحب کے ساتھیوں اور پھر خود ڈاکٹر صاحب سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ اسی دوران ’’ڈی بریفنگ‘‘ کا لفظ بھی سننے کو ملا۔یہ خبریں سب سے پہلے روزنامہ ’’جناح‘‘ میں عبدالودود قریشی صاحب نے دیں۔ میں اس وقت ’’خبریں‘‘ سے ’’پاکستان آبزرور‘‘ جاچکا تھا جہاں زاہد ملک صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب پر زاہد ملک صاحب کتابیں لکھ چکے ہیں جو بلاشبہ قوم کی بڑی خدمت ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس طرح انہوں نے تاریخ رقم کی ہے ۔ زاہد ملک کی دیگر کتابوں میں ایک کتاب ڈی بریفنگ پر بھی ہے جو انہی دنوں مرتب ہورہی تھی۔ جب میں پاکستان آبزرور میں تھا یہ 2004ء کی پہلی سہ ماہی کا عرصہ تھا۔ مجھے افسوس رہے گا کہ زاہد ملک صاحب کے اعتماد کے باوجود اس کتاب کے سلسلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کر سکا۔ میں ان کا ہمیشہ ممنون رہوں گا کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا مگر اس کا کیا کروں کہ میں نے خود کو اس لائق کبھی نہیں سمجھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام بے شک نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے معتبر اور محترم ہے۔ اسلامی دنیا کو ایٹمی طاقت سے ہمکنار کرکے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں اعتماد اور اہمیت کا احساس دلانے والا اور کوئی سپوت اسلامی دنیا میں بلامبالغہ اور بلاخوف تردید کسی اور ماں‘ کسی اور دھرتی نے نہیں جنا۔ ان جیسا کہیں سے لایا نہیں جاسکا۔ وہ اپنے جیسا ایک ہی تھا جو پاکستان نے مہیا کیا پھر یہ کیوں ہوا کہ ہمی نے اس کو مجرم بنا کر پیش کر دیا؟ امریکیوں نے جنرل مشرف کے سامنے ایسا کیا رکھ دیا کہ ان کی زبان گنگ ہو گئی؟ ان کی ساری کی ساری فصاحت و بلاغت جس کا اظہار ہم وطنوں کو مخاطب کرکے کرتے رہتے ہیں امریکیوں کے سامنے کیوں دھری کی دھری رہ گئی؟ وہ کیا نقطہ تھا جس نے محرم کو مجرم بنا دیا؟ یہ جنرل مشرف وہی ہیں نا جنہوں نے بش کی ایک ٹیلی فون کال پر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی نام نہاد فرنٹ لائن سٹیٹ بننے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ قوم اور قومی لیڈروں کی تو بات ہی جانے دیں کسی ایک کور کمانڈر تک سے مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ یقیناً یہ وہی جنرل مشرف ہیں پھر یہ جنرل مشرف ڈاکٹر قدیر کے خلاف امریکی چارج شیٹ پر دوسری بات کس طرح کرتے؟ پچھلے دنوں خارجہ امور کے ماہرین ایک چینل پر یہی رونا رو رہے تھے کہ ڈکٹیٹر کے ساتھ مسئلہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ پارلیمنٹ سے مشورہ کرکے جواب دے سکتا ہے۔ اس سے Do this ، Do that اورDo More کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی علم ہوتا ہے کہ جو کرنا ہے اس ایک فرد کو کرنا ہے اس لیے ڈکٹیٹر ’’ناں‘‘کرنے یا وقت لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا مگر اس پر محترم نسیم انور بیگ صاحب کا کہنا ہے کہ ڈکٹیٹر کا ضمیر تو ہوتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر سے پوچھ سکتا ہے کہ جو وہ کرنے جارہا ہے وہ ٹھیک ہے یا غلط۔ بیگ صاحب کی بات درست ہے مگر ضمیر کوئی مجسم چیز نہیں۔ اس کو اگر دیکھا جاسکتا ہے تو وہ صرف اعمال اور اقدامات کی صورت میں ہی ممکن ہے اور ہمارے ڈکٹیٹروں کے سب اعمال ہمارے سامنے ہیں۔ ان میں ضمیر کی جھلک کسی کو نظر آتی ہے تو آکر بتا سکتا ہے ورنہ اکثریت اس بارے میں مکمل نابینا واقع ہوئی ہے۔
اب منتخب حکومت جہاں دیگر جمہوری روایات کو فروغ دینے جارہی ہے کیا ہی اچھا ہو کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کے مسئلے پر بھی فرد واحد کے اقدامات کو کالعدم قرار دے کر جمہوری فیصلہ کرنے پر غور کر لیا جائے۔ پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے۔ اس میں ڈاکٹر صاحب کی خدمات بھی زیر غور آئیں اور امریکی الزامات پر بھی بات ہو۔ یہ بھی دیکھا جائے کہ ان میں حقیقت کتنی ہے اور پروپیگنڈا کس حد تک ہے اور اگر ڈاکٹر قدیر پر کوئی الزام ثابت ہوتا ہے تو یہ بھی دیکھا جائے کہ کیا وہ یہ کام اکیلے کر سکتے تھے؟ نہیں تو اور کون کون شامل تھا اور وہ لوگ کیوں مقدس گائے بن کر قوم کو چارہ بنا کراس کی جگالی کئے جارہے ہیں۔ اوپن ڈی بیٹ ہو۔ اس کے لیے جرات چاہیے ہو گی۔ اس ایشو کو صدر کے کورٹ میں پھینکنے کے بجائے قومی مسئلہ سمجھتے ہوئے خود ڈیل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس ملک میں ہر ہیرو کو زیرو بنا کر رکھ دینے کی روایت جاری رہے گی اور اس کی آڑ میں لیڈر شپ کے فقدان کا بہانہ بنا کر آمریت مسلط کرنے کا مکروہ کھیل بھی چلتا رہے گا۔ اس کی زد میں یقیناً وہ لوگ بھی آکر رہیں گے جو فی الحال اس سے پہلو تہی کررہے ہیں۔ بہرحال صدر مشرف پر باقی بہت سے سوالوں کے ساتھ ساتھ اس کا جواب بھی قرض ہے کہ بقول آپ کے جب ڈاکٹر قدیر ایٹمی پھیلاؤ پر کام کررہے تھے تو اس وقت بطور نگران و محافظ ایٹمی پروگرام آپ کیا کررہے تھے۔ آپ سے پہلے والے کیا کررہے تھے؟
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے کس کس کے ساتھ کیا کیا ہوا؟ ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بقول ہنری کسنجر ’’عبرت کا نشان‘‘ بنایا گیا۔ ملک کے ایک اور منتخب وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کر کے پہلے قید میں ڈالا پھر جلا وطن کر دیا گیا۔ اس پروگرام کے خالق کو خجل کر کے رکھ دیا گیا۔ یہ چند موٹی موٹی مثالیں ہیں اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ یہ سب کس نے کیا اور کون کون آلہ کار بنا اور یہ جو لوگ بھی تھے دیکھنا ہے کہ یہ ہر بار کیوں بچ نکلتے ہیں؟ان کا’’کِلاّ‘‘کون سی ایسی جگہ لگاہواہے کہ
وہ قتل بھی کرتے ہیں توچرچانہیں ہوتا
ہم آہ بھی بھرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
اس ملک کے سیاستدان بھی غلط، اس ملک کے سائنسدان بھی غلط، اس ملک کے جج بھی غلط، یہاں سب غلط، نہیں غلط تو صرف جرنیل۔ کتنی عجیب بات ہے ایٹمی پروگرام کی سیکیورٹی ہمیشہ آرمی کے پاس رہی مگر اس کے مبینہ ’’پھیلاؤ‘‘یا ایٹمی دھماکوں یا اس کے آغازکی سزا صرف اورصرف سیاستدانوں اور سائنسدانوں کو ملتی رہی اور اس کے لئے آلہ کار بھی ہمیشہ یہی آرمی چیف ہی بنے تو پھر قوم کی اس امانت کے اصل محافظ تو سیاستدان ہوئے وہی سیاستدان جن کے متعلق مارشل لا ایڈمنسٹریٹروں نے ہمیشہ یہی کہا کہ پاکستان میں لیڈرشپ کا فقدان ہے جبکہ اصل لیڈر شپ ان کے سامنے موجود تھی اور جس کو وہ منظرسے ہٹاتے رہے۔کیونکہ یہ امریکہ بہادر کے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے جو وہ چاہتاتھا۔
ہم بھی کیسی بدقسمت قوم ہیں۔ ایٹمی طاقت سے لیس کرنے والے کو نشان عبرت بنا دیا اور پچاس سال قوم کے لیے بہترین دماغ اور کثیر سرمایہ خرچ کرکے جو طاقت حاصل کی اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ایک فون کال کا سامنا کرنے کی جرات نہیں ہوئی اور وہیں ڈھیر ہو گئے۔چلیں اس نقطہ نظر ہی سے دیکھ لیتے ہیں کہ ایٹم بم چلانے کی نہیں دکھانے کی چیز ہے جس کو دکھا کر ایٹمی طاقت کا حامل ملک دنیا سے اپنی بات منوا سکتا ہے اور ترقی کی دوڑ میں تیز بھاگ سکتا ہے مگر ہمارے ساتھ ایسی بھی کوئی صورتحال نہیں۔ دنیا میں کون ہماری بات مان رہا ہے۔ سب ہم سے منوائے جارہے ہیں اور ترقی کی جس دوڑ کے خواب ہمیں دکھائے گئے تھے ہم تو ان خوابوں سے بھی محروم ہو گئے کیونکہ جب کئی کئی گھنٹے بجلی بند ہو گی تو نیند بھی نہیں آتی۔ آنکھ لگے تو کوئی خواب بھی دیکھے۔ ایٹمی پروگرام کے خالقوں اور نگرانوں سے کوئی پوچھے ایٹم کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے پر کیوں کام نہیں کیا؟ جب ایک ایٹم پھٹتا ہے تو اس سے لامتناہی توانائی خارج ہوتی ہے اس سے تباہی ہوتی ہے۔ اس توانائی کو بجلی کی شکل دینے پر کوئی توجہ دی گئی ہوتی تو آج پاکستان ایشیا کا خوشحال ترین اور ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ بجلی اتنی ہوتی کہ مفت بانٹنے سے بھی ختم نہ ہوتی بلکہ برآمد کرکے خطیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا۔ ہم تصور ہی کر سکتے ہیں کہ اگر بجلی مفت ملنے لگے تو عام آدمی سے لے کر ملک تک اس کے کیا معاشی اثرات ہو سکتے تھے۔ یہ اثرات کثیر الجہتی ہوتے۔ بجلی کا بل تو ختم ہو ہی جاتا۔ گھر میں آنے والی روز مرہ استعمال کی اکثر اشیائے صرف بھی ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتیں۔ یہ سب تو نہیں ہو سکا البتہ ایک کریڈٹ ضرور پاکستان کے حصے میں آگیا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے مگر بجلی نہیں ۔
کل تلک جو امر تھا افتخار کا
آج کیوں باعث ہے اعتذار کا ؟
ہم نے سمجھا جس کو اپنا نگہباں
آمر مطلق تھا وہ بے کار کا

Courtesy: Daily Jinnah, 31/5/2008

 Posted by at 1:44 pm

  One Response to “ایٹم بم تو ہے مگر۔۔۔۔بجلی نہیں(تزئین اختر کا کالم رائے عامہ )”

  1. main hoon Shehzad Akhter mera taluq Sialkot ke aik chhote se qasba mauzea Miani tehsil Sialkot se hai meri mojooda hukmraanon se haath baandh kar apeal hai Khuda ra raat ke darmiaani hisse main bijli ki load shedding khatam kar ke din ke kisi hissa main rakh lain. kiyunke ghareeb tabqa pehle hi mehangai ki chakki main pis raha hai ooper se raat ke darmiaani pehr ki waja se yeh tabqa so nahi paata aur sehat kharaab hoti jarahi hai.main waqt ke hukmraanon se yeh nahi kehta keh bijli ki load sheding ka yeh ghanta khatam hi kar dain humain maloom hai ke maujooda hukmraanon k kandhon par buhat bara bojh hai unhain mulak ko sanwaarne main kuchh waqt lage ga. aik taraf se buhat bari khushi ki baat hai k humaare mulak ki qiaadat asal jamhoori logon k haath main hoon aur umeed hai k maujooda hukmraan awaam k haqiqi khaadam ban kar is be sahaara awaam ki khidmat karain gay.ittefaaq main buhat bari barkat hai aur Allah Taala ne us doobti hui nayya ko bachaane k liye humaare mulak k naamwa siaastdaanon k dilon se zaati mufaad aur ranjshain nikaal kar un ko aik hi plate form par laa khara kia hai.yeh poori qaum ke liye khushi ki baat hai aur poori qaum par Allah ka ihsaan hai aakhir main meri apne mulak ke hukmraanon izzat maab janaab zardaari saahib aur izzat maab janaab nawaaz sharif saahib se ilteja hai ke raat ke waqt load sheding ka dauraania khatam kar ke awaam ko skoon muhayya karain awaam aapko buhat duaaen de gi kiyunkeh Allah taala ne bhi raat binsaan ke aaraam ke liye banaai hai umeed hai hukmraan saahibaan meri apeal par ghaur farmaen gay.Pakistan painda bad

Leave a Reply

%d bloggers like this: