پاکستان کے ساٹھ بڑے لوگ کون؟ (مستنصر حسین تارڑ کاکالم ہزار داستان)


انڈیا ٹو ڈے کے سروے کے مطابق ساٹھ عظیم ہندوستانیوں کی فہرست میں کیرالہ کی ریاست کے پہلے جمہوری طورپر منتخب ہونے والے کمیونسٹ وزیراعلیٰ نمبودری پد بھی شامل ہیں کمیونزم کے فلسفے کے برعکس وہ شدید طور پر جمہوریت پسند تھے اورانہوں نے کیرالہ کوایک مثالی ریاست بنادیا۔ خواندگی سوفیصد ہوگئی۔عورتوں کے حقوق کاتحفظ ہوا،طبی سہولتیں ہرشہری کوحاصل ہوئیںاور جاگیرداری نظام کوختم کردیا۔ نمبودری پد کی تصنیفات ڈیڑھ سو جلدوں پرمشتمل ان کے افکار کی نمائندگی کرتی ہیں۔
بہت سے سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک کانگریس کے سب سے بڑے لیڈر نہرونہیںتھے بلکہ ولبھ بھائی پٹیل تھے جنہوں نے آزادی کے فوراً بعد پانچ سوسے زائد راجوں مہاراجوں کی ریاستیں مذاکرات کے ذریعے ہندوستان میں شامل کرلیں ۔صرف گاندھی کے کہنے پرانہوں نے متعدد بار نہرو کیلئے کانگریس کی صدارت چھوڑدی اگرچہ وہ نہرو کی پالیسیوں سے شدید اختلاف رکھتے تھے ان کاکہناتھا کہ ایک آزاد ہندوستان کے رہنما نہ تو کوئی غیر ملکی زبان بولیںگے اورنہ ہی عوام سے دور رہ کر ان پر حکمرانی کریںگے ۔پٹیل نے ایک مستحکم ہندوستان کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار اداکیا حیدرآباد دکن پرفوج کشی کاحکم بھی پٹیل نے دیا۔
حیرت انگیز طورپر اٹل بہاری واجپائی بھی عظیم ہندوستانیوں میںشامل کیے گئے ہیں ۔ وہ پہلے وزیراعظم تھے جوکانگرسی نہیںتھے اگرچہ ان کی سیاست کا جھکاؤ مذہب کی جانب تھا لیکن اس کے باوجود وہ ایک پرامن اوردوستانہ ماحول کے حامی تھے ہم اسے صدق دل سے قبول کرتے ہیں۔جہاں تک اقتصادیات کاتعلق ہے اس فہرست میںسب سے نمایاں نام نوبل انعام یافتہ امرتیاسین کاہے نوبرس کی عمرمیں جب سین نے بنگال کے قحط کواپنی آنکھوںسے دیکھا تو اس نے غربت کیسے ختم کی جاسکتی ہے کہ عنوان سے اپناپہلا مضمون لکھا۔ راجندرناتھ ٹیگور کی شاعری کو پسند کرتے ہیںاورفرصت کے اوقات میں یاتو مطالعہ کرتے ہیں یابائیسکل کی سواری کرتے ہیںاورلوگوں کے ساتھ بحث کرناان کا محبوب مشغلہ ہے۔صنعت کاروں کی فہرست میں جے آر ڈی ٹاٹا شامل ہیں جن کے ادارے نے ابھی کچھ روز پیشتر دنیا کی سب سے سستی کار نینو ایجاد کی ہے جس کی قیمت صرف ایک لاکھ روپیہ ہے 1948ء میں ٹاٹا نے ایئرانڈیا کی بنیاد رکھی جوایشیا کی پہلی فضائی کمپنی تھی جس کی پروازیں مغرب کی جانب گئیں۔ ٹاٹا ہندوستان میں نہیں فرانس میںپیداہوئے اورتعلیم بھی وہیں پرحاصل کی لیکن آزادی کے فوراً بعد ہندوستان چلے آئے کہ وہ اس کی صنعتی ترقی میںحصہ لیناچاہتے تھے۔
ہندوستان کی سائنسی ترقی اورتعلیم کی بنیاد رکھنے والے کانام شانتی بھٹناگر تھا۔ وہ لاہور میںپیدا ہوئے اورپنجاب یونیورسٹی میںپروفیسر تھے جب انہیں سائنس اورصنعتی تحقیق کے ادارے کاسربراہ مقرر کیاگیا۔ ان کے بارے میں کہاجاتا تھا کہ جب کبھی انہوں نے کوئی نیاسائنسی ادارہ،کوئی سائنسی کالج یانئی لیبارٹری کے قیام کی اجازت حاصل کرنی ہوتی تھی تو وہ نہروکو گھیرلیتے تھے جب وہ صبح کی سیر کررہے ہوتے تھے اورذرا خفا ہوکر کہ میری سیر کاستیاناس ہورہاہے فوراً کاغذات پر دستخط کردیتے تھے سائنس کے بعدبھٹناگر کاسب سے بڑا عشق اردو شاعری تھا اوروہ خود بھی نہایت اعلیٰ غزلیں لکھا کرتے تھے بھٹناگر کے علاوہ سائنسدانوں کی فہرست میں پی وی رامن بھی شامل ہیں جنہوں نے 1930ء میں فزکس کانوبل انعام حاصل کیا جس کی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے اپنی تمامتر تحقیق ہندوستان میں کی۔
فیلڈ مارشل مانک شاء امرتسر میں پیداہوئے جنگی حکمت عملی کے حوالے سے وہ ایک داستانوی حیثیت کے حامل ہیں۔نرم دل اتنے کہ اب بھی کہتے ہیں کہ خداکاشکر ہے کہ میںایک عورت نہیںہوں کیونکہ میںکسی کوانکار نہیںکرسکتا مئی1971ء میں جب اندراگاندھی نے انہیں مشرقی پاکستان پرحملے کاحکم دیاتو انہوں نے انکار کردیا کہ ایک تو میں اس کیلئے تیار نہیںہوں اور ہمیںپاکستان کے اندرونی معاملات میں فی الحال مداخلت نہیںکرنی چاہیے اور جب ہم پاکستانیوں نے ان کیلئے مداخلت کامناسب جواز پیدا کردیاتو مانک شا اس تقریباً یک طرفہ جنگ میںفاتح رہے۔ جب اندراگاندھی نے ان سے کہاکہ وہ پاکستانی کمانڈر جنرل نیازی سے ہتھیار ڈال دینے والی دستاویز پردستخط کروائیںاوران کی بیلٹ اورپستول وصول کریںتو ایک مرتبہ پھر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہامیں نے تو محض حکمت عملی تیار کی تھی یہ حق جنرل اروڑہ کاہے جومیدان میںتھے۔
مدر تھریسا، ہاکی کے دھیان چاند، ٹنڈولکر،ملکھا سنگھ جنہیں جنرل ایوب نے فلائنگ سکھ کاخطاب دیاتھا ملک راج آنند، رکمنی دیوی آرون دالے جوایک رقاصہ تھیں اورجنہیں مرارجی ڈیسائی نے ہندوستان کی صدارت پیش کی تھی لیکن انہوں نے انکارکردیا راج کپور،زوبین ممتا،منشی پریم چند،ستیاجیت دے، بمل رائے، پنڈت روی شنکر، امریتا شیرگل کے علاوہ عبدالکلام بھی عظیم ہندوستانیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ انہیں ایک سابقہ صدر کی حیثیت سے نہیں ایک بڑے سائنسدان کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے وہ ایک تامل خاندان میں پیدا ہوئے اتنے غریب تھے کہ گوشت کھانا افورڈ نہیں کر سکتے تھے اس لئے زندگی بھر صرف سبزیوں پر قناعت کی۔ ہندوستان کی میزائلیں ناگ، پرتھوی ، آکاش، ترشول اور اگنی انہوں نے تخلیق کیں۔ سادگی میں گاندھی کے پیروکار ہیں اور حضرت عمرؓ کو ایک ماڈل حکمران سمجھتے ہیں۔
بیگم اختر یا اختری بائی فیض آبادی کے علاوہ شہنائی نواز بسم اللہ خان بھی اس فہرست میں جگہ پاتے ہیں بسم اللہ خان جو ولز کے سگریٹ پیتے تھے اور بنارس کے مندروں میں بھی شہنائی بجاتے تھے۔ پانچ وقت کے نمازی تھے لیکن اس کے ساتھ سرسوتی دیوی کے بھی عقیدت مند تھے جو موسیقی کی دیوی ہے۔
کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم بھی کسی طریقے سے ساٹھ عظیم ترین پاکستانیوں کا چناؤ کریں اس فہرست میں کون کون شامل ہو سکتا ہے؟ علامہ اقبال، قائداعظم، عبدالستار ایدھی، ذوالفقار علی بھٹو، جہانگیر خان، جاوید میانداد، نورجہاں، مہدی حسن، خواجہ خورشید انور، فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو، عبدالقدیر خان، روشن آراء بیگم، عبدالرحمن چغتائی، صادقین، ڈاکٹر عبدالسلام، جسٹس کارنیلس… یہ تو میرے اندازے ہیں، آپ انتخاب کیجئے کہ اس فہرست میں اور کون کون شامل ہونے کا حقدار ہے۔۔؟

Courtesy: Daily Jinnah

Leave a Reply