پاکستانی عورتوں کو چھیڑنے کے فوائد:۔ کیا ہماری عدلیہ اس میں ملوّث ہے !۔

Advantages of Harassing Women in Pakistan ;-) Is Judiciary Involved :)

Watch an interesting Tv Program. Click “More..” button in the bottom right .

Salaam, dear friends of JTv A very nice and pleasant day to you.

Welcome to your favourite website ….

First of all we congratulate you on the passing of the new law about “Harassment of Women” in Pakistan. This law was long due. It can be argued though, that such a law was required since the days of Adam and Eve!

Its opposition by the Pakistani Political Right is something that still baffles us.

Part I of this Program:

Would you believe that it has been reported that the Harassment of Women is of some advantage to a certain section of the Pakistani society. At least one newspaper has reported in a manner that sounds like it ;-) . Read it, watch it, and enjoy.

Part II of the Program:

We also bring you a famous national song, honoring Pakistani women. This popular and moving national song has been written by no other than the great Pakistani poet, Jameeluddin Aali. This has been sung by Mahnaz and her troupe. Mahnaz troupe did make a mistake in one of the lines of the song. They sing: “Tareekh nai yeh likh diya, Insaan kee ibaadat hum sai hai”, actually this line is: “Insaan ibaarat hum sai hai.” Full text of this song is given at the end of this message.

Part III of the Program:

Also, watch an introduction of the JTv series, Best Friend+Living Legend, as given by Mr. Justuju to the great Pakistani writer, winner of Pride of Performance and another 900 national and international awards, Ms Fatima Surayyia Bajiya. We hope that you would enjoy this program, and come back for more. Please do record your feed back using the facilities of this great and favourite website of yours.

Regards.

Very Questly Yours,

Justuju Tv — All colors of life. Beyond all dimensions
………………………………………………………………….

Tags: Pakistan, Law and Justice in Pakistan, Rights of Pakistani Women, JustujuTv, PTv, GEO, Fatima Surayyia Bajiya, Anwar Maqsood, Zubeida Tariq, Zehra Nigah, Urdu Drama History, Aali Jee, Athar Shah Khan Jedi, Professor Sajjad Sajid Muradabadi, Best Friend Series of JTv


پیارے دوستو، خواتین و حضرات، سلام

آپ کا یہ دن انتہائی خوش گوار گزرے، آمین۔

ہم آپ کو آپ کی اس پسندیدہ ویب سائٹ پر خوش آمدید کہتے ہیں۔

پروگرام کا حصہ نمبر ایک:۔
ہم آپ سب کو خواتین کو ہراساں کیے جانے کے بارے میں پاکستانی قانون کی منظوری پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اس قانون کی ضرورت تو حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے ہی رہی ہے۔ چلیے دیر آید، درست آید۔

کم از کم ایک اخبار میں یہ خبر کچھ اس طرح شائع ہوئی ہے، جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں خواتین کو پریشان کرنے سے عدلیہ کو کچھ فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ تفصیلات کے لیے پروگرام ملاحظہ کیجیے۔

پروگرام کا حصہ نمبر دو:۔
پاکستانی خواتین کی شان میں جناب ڈاکٹر نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی نے ایک نہایت ہی دل کش اور مقبول ترانہ تحریر کیا۔ اسے مہناز اور ساتھیوں نے گایا۔ یہ نغمہ چند تصاویر اور معلومات کے ساتھ پیش خدمت ہے۔ مہناز اور اس ترانہ کے پروڈیوسرز سے ایک مغالطہ ہوا ہے، اور ایک مصرعہ، ایک سطر، اس ترانہ کی درست طور پر ادا نہیں کی گئی۔ اس میں ایک جگہ کہا گیا ہے ” تاریخ نے خود لکھ دیا، انسان کی عبادت ہم سے ہے”۔ دراصل یہ سطر اس طرح ہے:۔ ” تاریخ نے خود لکھ دیا، انسان عبارت ہم سے ہے”۔ ریکارڈ کی درستگی کے لیے ہم یہ نغمہ، یہاں تحریر کر رہے ہیں۔

پاکستانی خواتین کا ترانہ
از: جمیل الدّین عالیؔ ۔۔ تحریر شدہ دسمبر 1976

ہم مائیں
ہم بہنیں
ہم بیٹیاں
قوموں کی عزّت ہم سے ہے
قوموں کی عزّت ہم سےہے

ہم معنیء مہر و وفا ۔۔ ہم کشمکش ہم ارتقاء
تاریخ نے خود لکھ دیا ۔۔ انسان عبارت ہم سے ہے

ہم مائیں، ہم بہنیں، ہم بیٹیاں
قوموں کی عزّت ہم سے ہے

زنجیرِ استحصال نے ۔۔ روکے ہوئے تھے راستے
اب چل پڑے ہیں قافلے ۔۔ جن میں حرارت ہم سے ہے

ہم مائیں، ہم بہنِیں، ہم بیٹیاں
قوموں کی عزّت ہم سے ہے

اے دور نو تیری قسم ۔۔ آگے ہی جائیں گے قدم
ہم تیری صف، تیرا علم ۔۔ تیری حقیقت ہم سے ہے

ہم مائیں، ہم بہنِیں، ہم بیٹیاں
قوموں کی عزّت ہم سے ہے

پروگرام کا حصہ نمبر تین:۔
اس حصہ میں ملاحظہ کیجیے، ٹیم جستجو محترمہ فاطمہ ثریا بجیا سے ملاقات کے لیے ان کے گھر پہنچتی ہے۔ پہلی مرتبہ جستجو اپنی پروگرام سیریز، بہترین دوست کے بارے میں بتارہے ہیں۔ یہ ایک تمہیدی پروگرام ہے، تفصیلات کے لیے جلد ہی دیکھیے، اگلی قسط۔ آپ سے درخواست ہے کہ اپنی اس پسندیدہ ویب سائٹ پر اس پروگرام کے بارے میں اپنی رائے اور تجاویز تحریر کرنا نہ بھولیں۔ شکریہ۔

جستجو ٹی وی
زندگی کے تمام رنگ — ہر راہ گزر سے آگے

Related posts:

  1. #2 – Pakistani Legend Athar Shah Khan Talks to You عظیم پاکستانی “جیدی” کی آپ سے بات چیت
  2. Zardari at Garhi Khuda Bakhsh زرداری گڑھی خدا بخش میں
  3. The Fort Hood Affair: Lessons for Pakistan امریکی قلعہ ہوڈ میں افسوسناک ڈرامہ
  4. ’’معیاری بے عزتی او رکابل میں چیختی عورت‘‘( مستنصر حسین تارڑ کاکالم ہزار داستان)
  5. A cure for all ailments: Pak Police پاکستانی پولیس: زندہ طلسمات

Justuju

About Justuju جستجو کی جستجو ہاشم سید محمد بن قاسم جناب محمد بن قاسم صاحب بین الاقوامی صحافت اور ادب سے گزشتہ تین دہائیوں سے وابستہ ہیں۔ آپ کے افکار، خیالات، افسانے، طنزومزاح، اور حالاتِ حاضرہ پر تبصرے اردو اور انگریزی میں شائع ہوتے رہے ہیں جن کا عنوان:۔۔جستجو۔۔The Questہے۔ آپ بلاد العرب کے سب سے پہلے روزنامہِ "اردو نیوز" کے لیے اس کی 1994میں اجراء کے وقت سے اس سے ایک آزاد قلم ادیب کی حیثیت سے وابستہ رہے، اور سعودی عرب کے سب سے بڑے اخبار عرب نیوز کےلیے بھی رپورٹنگ کی۔ ریاض سے ہی وہ پاکستان کی ایک اہم نیوز ایجنسی آن لائن نیوز نیٹ ورک کے لیے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ جناب محمد بن قاسم مالی اور کمپیوٹنگ کے امور کے کنسلٹنٹ اور اداروں کی ترقّی اور ترویج و بقا، اور اس کے سماجی پہلوؤں پر دسترس رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں وہ دنیا کی کئی بڑی کمپنیوں کے لیے کام کرچکے ہیں۔ ان میں نیویارک کی کمپیوٹر ایسوسی ایٹس اور مشہور بین الاقوامی اکاؤنٹنگ فرم کے پی ایم جی انٹرنیشنل، اور کئی سعودی ہسپتال شامل ہیں۔ آپ سعودی عرب کی سب سے پہلی رسمی کمپیوٹر سوسائٹی کے بانی ممبران میں سے ہیں۔ ان کی دیگر جاری سرگرمیوں میں اردو انگریزی مسوّدات کی ادارت، اور اشاعت ہیں۔ جناب محمد بن قاسم صاحب کی تحریریں انٹرنیٹ کی دنیا میں ایک وسیع حلقہ اشاعت اور قرات رکھتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر شائع شدہ مواد کے علاوہ، آپ کی ایک مقبول تصنیف "زرگرفت" ہے جو سعودی عرب کا احوال ایک انوکھے، دل چسپ، اور پُر لطف انداز میں پیش کرتی ہے۔ آپ کی دل چسپ تحریریں اردو مزاح کے علم بردار ماہانہ رسالہِ شگوفہ، حیدرآباد دکّن، میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔

One Response to “پاکستانی عورتوں کو چھیڑنے کے فوائد:۔ کیا ہماری عدلیہ اس میں ملوّث ہے !۔ Advantages of Harassing Women in Pakistan ;-) Is Judiciary Involved :)”

  1. bilal says:

    Its “Altaf” not Iltaf……… in your Polls section, please correct it…. isn;t it better that you mention there as party names, instaed of personalities……… it will look good (i think). thanks

    [Reply]

Leave a Reply

(required)

(required)

*


You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

© 2010 Overseas Pakistani Friends Suffusion WordPress theme by Sayontan Sinha